وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضم اضلاع کے ترقیاتی پیکج کی تیاری سے متعلق اجلاس منعقد ہوا ۔ضم اضلاع کی معاشی ترقی کے لیے 6 تھیمیٹک ایریاز میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ پیکج کا حجم ایک ہزار ارب روپے ہوگا، پیکج کا نام "روښانه قبائل” (روشن قبائل) فائنل کر لیا گیا ہے۔ پیکج کے تحت بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور روزگار پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نےپیکج میں قبائل میڈیکل کالج، انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن سائنسز اور ڈیجیٹل سیٹیز کے قیام کو شامل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جن اضلاع اور تحصیلوں میں ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتال نہیں ان کا قیام پیکیج میں شامل کیا جائے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہر ضم ضلع میں ایک سپورٹس کمپلیکس اور تحصیل میں سپورٹس گراؤنڈ قائم کیا جائے۔وزیراعلٰی نے بازاروں اور ضم اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں کو سیف سٹی میں شامل کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے بازاروں، سکولوں اور مراکز صحت کی شمسی توانائی پر منتقلی کو بھی پیکج میں شامل کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے ہر تحصیل میں یتیم خانے، پناہ گاہیں قائم کرنے بھی ہدایت کی۔
ضم اضلاع کی ہر تحصیل میں ریسکیو 1122 اسٹیشن کا قیام بھی پیکج میں شامل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کی صحت اور تعلیم کے شعبوں کا شیئر خاطر خواہ بڑھانے،
سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی، آبپاشی ، سوشل ویلفیئر، کھیل اور توانائی کے شعبوں کا حصہ بھی بڑھانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارہ جاتی صلاحیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر سروس ڈیلیوری پر سرمایہ کاری بھی پیکج میں شامل، بین الشعبہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہمہ گیر ترقی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں سرمایاکاری بھی پیکج کا حصہ ہے۔پیکج کے تحت ضم اضلاع میں 1245 نئے پرائمری سکولوں کا قیام، 463 پرائمری، 85 مڈل سکولوں کی اپگریڈشن کی جائے گی۔ 975 پرائمری سکولوں، 240 مڈل سکولوں اور 125 ہائی سکولوں کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔ ضم اضلاع میں 11500 اساتذہ کی بھرتی، مختلف سکالرشپس کی فراہمی بھی پیکج میں شامل ہے، ضم اضلاع میں مراکز صحت کی بحالی و فعالی ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن سنٹرز کا قیام بھی پیکج میں شامل ہیں۔ضم اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر کی تعمیر، چیک ڈیمز کی تعمیر، آبپاشی انفراسٹرکچر کی تعمیر، پینے کے پانی کی فراہمی پیکج میں شامل۔ صنعتی انفراسٹرکچر کا قیام، سکولوں، مراکز صحت اور بازاروں کی سولرائزیشن عمل میں لائی جائے گی۔ زراعت و لائیو سٹاک، جنگلات ، کھیل و امور نوجوانان کے شعبوں میں اقدامات بھی پیکج کا حصہ ہیں۔ بلدیات، ریلیف، سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔






