اسپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ پشاور میں اسپیشل سیکیورٹی کمیٹی کا پہلا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، جاری عسکری کارروائیوں کے اثرات اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا جنید اکبر خان، ایم پی اے ڈاکٹر محمد اسرار صافی ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ، دیگر اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا جنید اکبر خان نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ آج تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھی ہیں۔ ہمیں اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے صوبے کے مستقبل، عوام کی سلامتی اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب انہیں پائیدار امن کی صورت میں ریلیف دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری جماعت اور صوبائی حکومت اس فورم پر تعمیری کردار ادا کرے گی جہاں امن اور عوامی تحفظ کی بات ہو۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ وقت سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی دانش کے ساتھ امن کے قیام کی راہ نکالنے کا ہے۔ ہماری حکومت سیکیورٹی کمیٹی اور تمام پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ صوبے میں امن و امان کا قیام ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ ہم تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر ایک واضح، مربوط اور قابلِ عمل لائحہ عمل تشکیل دیں گے تاکہ صوبے کے عوام کو ایک پُرامن مستقبل دیا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں متعلقہ اداروں سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی، جس کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی تاکہ فائنل ٹی او آرز مرتب کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ آج تمام اراکین نے اپنے تجربات، خدشات اور تجاویز پیش کیں جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صوبے کے امن و تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ ان شاءاللہ اجتماعی عزم اور قومی یکجہتی کے ذریعے ہم خیبر پختونخوا کو ایک محفوظ اور پُرامن صوبہ بنائیں گے۔






