لوئر چترال میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا باضابطہ افتتاح

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے لوئر چترال میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر ٹیوٹا، ضلعی انتظامیہ کے افسران، مقامی عمائدین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طفیل انجم نے کہا کہ آج لوئر چترال میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کرتے ہوئے نہایت خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کا نمائندہ بن کر اس اہم منصوبے کا افتتاح کر رہا ہوں۔ میں وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور یہ ان کا وژن ہے کہ آج ہم چترال جیسے دور دراز علاقے میں نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے یہ ادارہ قائم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چترال میں اب تک صرف ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز موجود تھے جہاں صرف سرٹیفکیٹ لیول کے کورسز کرائے جاتے تھے، جبکہ ڈپلومہ لیول کے کورسز کے لیے یہاں کے طلباء کو دیگر اضلاع یا دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جہاں پر انہیں آمد و رفت، رہائش اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب اس ادارے کے قیام سے مقامی سطح پر نوجوانوں کو گھر کی دہلیز پر ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ جیسے تین سالہ کورسز میسر ہوں گے۔طفیل انجم نے کہا کہ اس ادارے کا قیام نہ صرف مقامی سطح پر ہنرمندی کو فروغ دے گا بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ یہ چترال کے نوجوانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جو آج پورا ہو گیا۔ ہم مستقبل میں اس انسٹیٹیوٹ کو ڈگری لیول تک وسعت دیں گے تاکہ یہاں کے نوجوان اعلیٰ فنی تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نہ صرف فنی تعلیم کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے بلکہ فارغ التحصیل طلباء کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے بھی جامع اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس ہنر پروگرام کے تحت فنی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح آن جاب ٹریننگ پروگرام کے تحت کے پی ٹیوٹا کے فارغ التحصیل طلباء کو تین ماہ کے لیے مختلف صنعتوں میں ٹریننگ کے ساتھ 15,000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفرمیشن پراجیکٹ کے تحت بھی طلباء کو ٹول کٹس کے لیے 73,000 روپے تک کا گرانٹ دیا جا رہا ہے جبکہ چھ ماہ کی صنعتوں میں ٹریننگ بھی فراہم کی جا رہی ہے جس کے ساتھ 15,000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی شامل ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر طفیل انجم نے کہا کہ کے پی ٹیوٹا کو چترال کے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ ادارہ علاقے کی ترقی اور نوجوانوں کی ہنرمندی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے وژن کے مطابق فنی تعلیم کے فروغ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button