گلگت بلتستان میں موسمیاتی تغیرات کے اثرات اور ہماری مجموعی زمہ داریاں ! محمد سلیم خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، محکمہ اطلاعات، حکومت گلگت بلتستان.

حال ہی میں ایک واقعہ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کے ڈیجیٹل صفحات اور اخبارات کی زینت بنا، سکردو میں برگے نالہ میں اچانک آنے والی طغیانی نے لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا اور املاک کا نقصان بر داشت کرنا پڑا۔ اس ناگہانی آفت کی بناء پر سینکڑوں مکین بے گھر ہوئے اور ان کو صعوبتیں سہنی پڑیں ، اس سارے واقعے میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں، سوائے اس بات کے کہ لوگوں نے اب سیلاب کے قدرتی گزرگاہوں کے دہانے پر ہی گھر بنانے شروع کر دیے ہیں، حالانکہ گزشتہ تین دہائیوں میں برپا ہونے والی آفات کے مہلک نتائج ہم سب کے سامنے ہیں، گلگت بلتستان میں گزشتہ کچھ دہائیوں سے موسمیاتی تغیرات نے اس علاقے کی قدرتی ماحول، معیشت اور مقامی آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع اس کی معیشت، خاص طور پر سیاحت اور زراعت کے لئے بہت اہم ہیں۔ پہاڑی خطہ ہونے کے سبب ہموار اور قابل کاشت زمین کا رقبہ ناکافی ہے جس کی بناء پر لوگ زراعت کے علاوہ دیگر متنوع پیشے اپنانے پر مجبو ر ہیں اور روزگار حیات کا سلسلہ نسبتا دشوار ہے۔ اس پر مستزاد گاہے بگاہے موسمیاتی آفات سیلاب اور طغیانی کی شکل میں فصلوں اور قابل کاشت رقبے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ ہماری عمر کے افراد اور ہمارے بزرگوں کے سامنے وقوع پذیر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ہمیں بروقت تیاریاں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے جائزے کے لئے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کو نو سے دس ارب ڈالر مالیت کا نقصان صرف2010کے سیلاب کی وجہ سے درپیش رہا ہے ، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دو برسوں میں یکے بعد دیگر ے آنے والے سیلاب کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا نقصان سہنا پڑا ۔ لوگوں کی املاک، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ ملک پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سال 2024 میں غیر متوقع بارشوں نے گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ اورپنجاب سمیت سندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور کئی افراد سیلابی پانی اور طغیانی کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کھڑی فصلوں سمیت زرعی اجناس کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔ گلگت بلتستان میں ضلع غذر، ہنزہ ، نگر ، دیامر سمیت بلتستان ڈویژن کے اضلاع سکردو ، شگر میں موسمیاتی تغیرات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصانات رپورٹ ہوئے۔ جن کی تفصیلات اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ موسمیاتی تغیرات کی وجوہات میں قدرتی عوامل اور انسانی سرگرمیاں دونوں شامل ہیں۔ قدرتی عوامل میں زمین کی محور میں تبدیلیاں، سورج کی روشنی میں تبدیلیاں، اور قدرتی آتش فشانی سرگرمیاں شامل ہیں۔ انسانی سرگرمیوں میں فوسل فیول کا استعمال(گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد) ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور زرعی طریقوں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے، جو زمین کی حرارت کو بڑھا رہے ہیں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ اثرات گزشتہ چند دہائیوں میں گلگت بلتستان میں بھی واضح ہیں ، درجہ حرارت میں اضافہ گلیشیرز کے پگھلنے کے سبب ندی نالوں میں پانی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس سے ہر سیلابی کیفیت او ر طغیانی سے دریاؤں کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگر قارئین نے غور کیا ہو تو گلگت بلتستان کی جو وادیاں خوشگوار موسم کے باعث مشہور تھیں وہاں گرمی کی شدت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو زرعی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ دوسری طرف، غیر متوقع بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے فصلوں کا نقصان ہوتا ہے اور وہ کمیونیٹیز متاثر ہو رہی ہیں جن کا گز بسر زرعی اجناس کی پیداوار پر ہے ۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کا حیاتیاتی تنوع موسمیاتی تغیرات سے متاثر ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کئی پودے اور جانور اپنی قدرتی رہائش گاہوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے جنگلات میں کمی آ رہی ہے، جس سے جنگلی حیات کی بقا خطرے میں ہے۔پانی کی دستیابی پر اثرات ، پانی کی دستیابی میں کمی اور معیار میں تبدیلی بھی موسمیاتی تغیرات کا نتیجہ ہیں۔ گلیشیرز کے پگھلنے سے پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کی دستیابی میں کمی آ رہی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تغیرات انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، بعض علاقوں میں پانی کی قلت اور معیار میں کمی کی وجہ سے متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ خشک سالی، سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ جیسے مسائل کی وجہ سے انسانی دماغی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سیاحت جو کہ اس علاقے کی معیشت کا بڑا حصہ ہے، موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ گلیشیرز کے پگھلنے اور لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکیں اور پل ہر سال متاثر ہو رہے ہیں جن کی مرمت پر زر کثیر خرچ ہو رہا ہے ۔ پلوں اور شاہراہوں کو پہنچے والے نقصانات کے سبب اس پہاڑی خطے میں انسانی آمد و رفت مسدود ہوتی ہے اور بعض اوقا ت مقامی آبادی کئی دنوں تک بنیادی ضرورت کی اشیائے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ۔

موسمیاتی تغیرات کا مقابلہ کرنے کے اقدامات ، موسمیاتی تغیرات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ ہمیں موجودہ حالات کے پیش نظر مستقل کی پیش بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے، خطے میں ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کی حفاظت اور شجرکاری کو فروغ دینا چاہئے تاکہ قدرتی وسائل کی حفاظت کی جا سکے۔ جنگلات کی کٹائی پر پابندی عائد کرنی چاہئے اور جنگلات کی بحالی کے منصوبے بنانا چاہئے۔ حکومت کے ساتھ مقامی کمیونیٹز کا تعاون ناگزیر ہے، عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے ، ماحولیاتی تعلیم اور شعور کی سطح کو بڑھانے کے لئے عوام کو موسمیاتی تغیرات اور ان کے اثرات کے بارے میں آگاہی دینی چاہئے تاکہ وہ اپنے ماحول کی حفاظت کر سکیں۔ ماحولیاتی تعلیم کو اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کرنا وقت حاضر کی ضرورت بن چکا ہے۔

پائیدار زراعت، زرعی پیداوار کو موسمیاتی تغیرات کے مطابق ڈھالنے کے لئے زراعت کے جدید طریقے اپنانے چاہئے جو پانی کی بچت کریں اور زمین کی زرخیزی کو بحال رکھیں۔ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تغیرات کے اثرات بہت گہرے ہیں اور ان کے نتائج مستقبل میں بھی محسوس کئے جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، عوام اور ماحولیاتی ادارے مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں اور عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ اس خوبصورت علاقے کی قدرتی حسن کو محفوظ رکھا جا سکے اور مقامی آبادی کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ موسمیاتی تغیرات کا مسئلہ عالمگیر ہے، مگر اس کے اثرات دن بہ دن مقامی سطح پر بہت زیادہ محسوس ہو رہے ہیں، گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورتی اور وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ماحولیاتی تحفظ، پانی کے وسائل کی بہتر منصوبہ بندی، اور موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کے لئے عوامی آگاہی اور تعلیم ضروری ہیں۔

معیشت اور مقامی آبادی کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں اپنے وسائل کی بہتر منصوبہ بندی اور حفاظت کرنی ہوگی اورموسمیاتی تغیرات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جدید طریقے اور تکنیکی صلاحیتوں کا استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہم اس خوبصورت علاقے کو محفوظ اور مستحکم بنا سکیں۔

 

Slow Leopard

Forest’s, Parks, Wildlife and Environment Department Gilgit Baltistan

Gilgit-Baltistan Environmental Protection Agency

جواب دیں

Back to top button