وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 35 واں اجلاس منعقد ہوا ۔ صوبائی کابینہ اراکین اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ وزیراعلٰی علی امین خان گنڈاپور کا اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ

صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر اگلے ہفتے آل پارٹیزکانفرنس بلا رہے ہیں، آل پارٹیز کانفرنس میں مشاورت کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، اس مسئلے کے پائیدار حل کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوششوں سے ضلع کرم میں امن بحال ہوا ہے، جرگوں اور مقامی عمائدین کی مشاورت سے دیگر علاقوں میں بھی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں 3 ایم پی او کے قانون پر غوروخوض، اور اس میں اصلاحات لانے کا فیصلہ۔ 3 ایم پی او کا نفاذ صوبائی محکمہ داخلہ کی پیشگی اجازت سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس اقدام کا مقصد 3 ایم پی او کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ 3 ایم پی او کا قانون ایف سی آر طرز کا قانون ہے، اکثر اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔علی امین خان گنڈاپور نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کہیں بھی آسکتی ہیں، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، قدرتی آفات میں ہم دیگر صوبوں کی مدد کے لئے تیار ہیں۔اجلاس میں بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے خیبر پختونخوا کے شہداء کے ورثا کے لئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے مولانا خانزیب کے ورثا کے لئے بھی 1 کروڑ روپے امداد کی منظوری دی گئی






