کراچی میں ہائیڈرنٹس کی نیلامی میں تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے،،،،،؟؟؟

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) ہائیڈرنٹس کی نیلامی میں تاخیر، بغیر کسی حکمنامہ کے تھیکیداروں کی مدت زبانی غیر معینہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ پانی کے منافع بخش کاروبار میں بڑے بڑے سیاسی مذہبی،انتظامیہ کے ساتھ کاروباری شخصیات متحرک اور سرگرم عمل ہیں۔ کراچی میں زمین کے بعد سب سے کم وقت میں پیسے کمانے کا شعبہ ہائیڈرنٹس اور ثینکرز کا کاروبار ہے۔ہائیڈرنٹس کی نیلامی کا ٹھیکے کی مدت 29 مئی کو ختم ہوچکی ہے۔ ہائیڈرنٹس کی پانچویں مرتبہ دو سال کی مدت کا نیلامی عام کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ نیلامی ماہ جون 2025ء میں منعقد ہونے کی توقع تھی جو ماہ اگست کے آغاز میں بھی شروع نہ ہوسکا۔ میئر کراچی و چیئرمین واٹر کارپوریشن مرتضی وہاب ہائیڈرنٹس کی نیلامی سے قبل اپنا سسٹم لانے کے خواہش مند ہیں اور مبینہ طور پر ٹینڈر ڈاکومنٹ کی تیاری میں متعدد مرتبہ تبدیلی کے باعث اب تک تیار نہ ہوسکا۔ ٹرانسپورٹ کمیٹی سمیت دیگر پانچ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین واٹر کارورپشن مرتضی وہاب کی ہدایت پر ٹینڈر ڈاکومنٹ میں بار بار تبدیلی کرنے کے باعث مکمل نہ ہوسکا۔ ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج صدیق تنیو چیئرمین بورڈ مرتضی وہاب کے منظور نظر اور جوئینر گریڈ 17 افسر ہیں، جس کی نااہلی کے باعث نیلامی کا پہلا ٹینڈر ڈاکومنٹ بھی مکمل نہ ہوسکا۔ ،ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف انجینئر سپلائی محمد علی شیخ کی نگرانی میں ٹرانسپورٹ کمیٹی نے ٹینکرز کے نرخ 1550 روپے سے بڑھا کر 2300 روپے تجویز کیا تھا۔ موجودہ CEO احمدعلی صدیقی نے کم کرکے 1900روپے 1000 گیلن کردیا تھا۔ چیئرمین بورڈ نے ٹرانسپورٹ کا نرخ فی کلومیٹر کے بجائے 25 ٹاون کی سطح پر کرنے کی ہدایت کی جو تاخیر کا سبب بن گیاہے۔ کسی عوامی مشاورت کے بغیر فیصلہ کیا جارہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمیٹی موجودہ ٹینکروں کی فلینگ چارجز، ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے ساتھ بجلی کے بلوں میں اضافے میں توسیع کا فیصلے کرچکے ہیں، کمیٹی کا کہنا ہے کہ سروے، دو سالوں میں پیٹرول، ڈیزل، ٹینکروں کی مرمت و دیکھ بھال کے نرخ بھی حاصل کیئے ہیں جس کی مدد سے آئندہ ہفتے تک پانی کے نرخ سمیت دیگر چارجز کا تعین کیئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ہائیڈرنٹس کے ساتھ ٹینکرز و سروس میں رشوت، کمیشن،کک بیک سے اربوں روپے کے سسٹم بند ہونے کا دعوی سامنے آگیا ہے اربوں روپے کراچی میں WHITE GOLD کے طور پر کمایا جارہا ہے اور رشوت کمیشن،کک بیک حصہ بقدر جثہ ہر سطع پر تقسیم کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رشوت کمیشن کک بیک کا سسٹم کا طریقہ کار تبدیل ہوگیا ہے اور نئے افراد براہ راست سندھ سرکار کو پہنچا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ شیر محمد کی قاسم اینڈ برادرز(سخی حسن)ضلع وسطی،شاہ محمد خان اینڈ شاہ بلڈر جے وی کو کرش پلانٹ منگھوپیر ضلع غربی، ایس ایم طارق اینڈ برادرز کو NEK-II ضلع شرقی،غلام نبی واٹر کنٹریکٹرز کو نیپا چورنگی ضلع ایسٹ، ضلع جنوبی کو شیر پاؤ(اسٹیل ملز) ہائیڈرنٹ اور سرمد اعوان کی ایچ ٹو او انٹرپرائز صفورا ضلع ملیر، بلازون انٹرنیشنل کو کرش پلانٹ منگھوپیر ضلع کیماڑی دیا گیا ہے۔ ایچ ٹو کمپنی سینٹر شہادت اعوان کے بھائی سرمد اعوان کا ہے۔ دلچسپ امریہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی کے چھ اضلاع میں چھ ہائیڈرنٹس لگانے کی منظوری دینے پر نیلامی کا اعلان کیا۔ تین ستمبر 2017ء کو ٹھیکہ الاٹ کردیا گیا لیکن ساز باز کرکے ٹھیکہ منظور نظر ٹھیکے داروں کو دیا گیا تھا۔ 7 نومبر 2017ء کی تاریخ میں ورک آڈر جاری کیا گیا تھا۔ ٹھیکے کی معیاد دو سال تھی،۔ ہائیڈرنٹس مافیا سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود کراچی میں سرکاری چھ ہائیڈرنٹس کے علاوہ نیشنل لاجسٹک سیل،ڈپٹی کمشنر غربی کی نگرانی میں بلدیہ ٹاون میں غیر قانونی ہائیڈرٹنس بھی شہر میں پانی کے گھناونا کاروبار کے ساتھ پانی کی خرید و فروخت بھی جاری ہے۔کراچی میں پانی مافیا (Water Mafia) کے بڑ ے بڑے کارندے متحرک اور سرگرم عمل ہیں وہ گذشتہ نیلامی میں ناکام ہوئے تھے انہوں نے بھی جہدوجہد تیز کردی ہے۔ ایک مافیا کا میلہ لگے گا۔ سیاسی، مذہبی، سماجی کاروباری طبقہ کے علاوہ زیر زمین کاروبار کرنے والے بھی شامل ہیں۔ کارپوریشن ذرائع کا کہنا ہے کہ چکرا گوٹھ پر چلنے والا غیر قانونی ہائیڈڑنٹ افضل، نورا سمیت دیگر افراد چلا رہے ہیں جن کو سیاسی و انتظامی شخصیات کی سپورٹ حاصل ہے،مبینہ طور اس ہائیڈرنٹ کے خلاف آپریشن کرنے کی ہدایت کی اور جب آپریشن کرنے جارہے تھے تو موجودہ CEO احمد علی صدیقی نے فون پر آپریشن ٹیم کو واپس بلوا لیا تھا۔ غیر قانونی سہولت کاری اگر CEO کی سطع پر کی جائے گی تو غیر قانونی کاموں کے خلاف کاروائی ممکن ہی نہیں ہے اور سرکار کی رٹ بھی قائم نہ ہو گی۔ مبینہ طور پر شاراع فیصل، ڈالمیا روڈ پر بھی ہائیڈرنٹس چل رہا ہے،تین ہٹی مزار کے عقب میں،پٹیل پاڑہ کے قریب، جنجال گوٹھ،بنگالی موڑ سہراب گوٹھ، گرم چشمہ منگھوپیر، کورنگی ریفائری،لانڈھی،میمن گوٹھ،شیرشاہ ،حب پمپنگ اسٹیشن کے نزدیک اور اس کے اردگرد دیگر مقامات پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، اسی لیئے سندھ حکومت نے ٹیکنیکل سی ای او کئی ہے تاکہ کراچی شہر میں جتنے بھی غیر قانونی دھندے ہو رہے ہیں اس پر آنکھ بند رکھی جائے ۔ کراچی کے درجنوں سب سوئل لائسنس یافتہ بھی کراچی کے لائنوں میں کھلے عام پانی چوری کرنے کا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں،جبکہ حب کینال سے سینکڑوں ٹینکروں کے ذریعے پانی چوری کھلے عام کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت نے ادارے میں ٹیکنیکل سی سی او اسی لیئے لگایا ہے تاکہ وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو سکیں۔

جواب دیں

Back to top button