وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ اقلیت کے موقع پر صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے تاریخی وژن کو یاد کیا اور کہا کہ 11 اگست وہ دن ہے جو قوم کو قائد کے تاریخی خطاب کی یاد دلاتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم اسی اسمبلی ہال میں جمع ہیں جہاں سب سے پہلے قراردادِ پاکستان منظور کی گئی تھی۔ 11 اگست 1947 کو قائداعظم نے ملک چلانے کا اپنا وژن پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر شخص کو اپنے مندروں، مسجدوں یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی مکمل آزادی ہے اور مذہب یا عقیدہ ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے 1947 میں آزادی حاصل کی لیکن 2009 میں اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 11 اگست کو سرکاری طور پر اقلیتوں کا دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے ہم یہ دن ہر سال یومِ آزادی سے تین روز قبل مناتے ہیں تاکہ قائداعظم کے مساوات اور انصاف کے وژن کی تجدید ہو۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے قومی پرچم میں سبز رنگ مسلم اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ سفید رنگ ملک کی اقلیتوں کی علامت ہے۔ تاریخی حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26 جون 1947 کو سندھ اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ شمولیت کے حق میں ووٹ دیا تھا جس میں 33 اراکین نے حمایت کی اور 20 نے مخالفت، یوں سندھ پاکستان کی حمایت کرنے والا پہلا صوبہ بنا۔قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ دہراتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’قائداعظم خود کو پاکستان میں ہندو اقلیتوں کا محافظ سمجھتے تھے۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جو سب کا ہو اور جہاں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ مراد علی شاہ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریے کا بھی ذکر کیا جن کا ماننا تھا کہ آمروں نے مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا لیکن عوام نے ہمیشہ جمہوریت، انسانی حقوق اور مساوات کے ذریعے انتہا پسندی کو مسترد کیا۔وزیر اعلیٰ نے سندھ کی شناخت کو صوفی بزرگوں کی دھرتی کے طور پر اجاگر کیا جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور لعل شہباز قلندر شامل ہیں اور جنہوں نے مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ نفرت پھیلانے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے اور امن و محبت کے لئے یاد رکھے جائیں گے۔اقلیتی برادریوں کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات بیان کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہندو میرج ایکٹ منظور کیا، کم عمری کی شادی پر پابندی عائد کی، تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا اور اقلیتی نوجوانوں کے لیے تعلیم و روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ امن و اتحاد کو پروان چڑھایا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے مذہبی و ثقافتی ورثہ محفوظ بنایا جا سکے۔
خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے سب کو مساوات کا عہد کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں، سب برابر ہیں۔ خوف یا محرومی نہیں ہونی چاہیے، صرف عزت اور سب کے لیے مواقع ہونے چاہئیں۔ یہی قائداعظم کا پاکستان ہے اور یہی ہماری قیادت کا وژن ہے۔ آئیے مل کر اسے حقیقت بنائیں۔






