اسپیکر سندھ اسمبلی و چیئرمین مستحکم پارلیمان اسٹریٹجک پلان کمیٹی سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت بدھ کے روز سندھ اسمبلی میں اسٹریٹجک پلان کمیٹی 29-2024 کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران اسٹریٹجک پلان کمیٹی کے ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا

جن میں مصنوعی ذہانت، ہیومن ریسورس انفارمیشن سسٹم، انٹرنیشنل پارلیمنٹری یونین، لیجسلیٹو ڈرافٹنگ یونٹ، پارلیمانی ڈیولپمنٹ یونٹ، پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز، پوسٹ لیجسلیٹو اسکروٹنی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، اسٹریٹجک مقاصد اور اسٹریٹجک پلاننگ کمیٹی کے امور شامل تھے۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و ممبرز کمیٹی سید اعجاز حسین شاہ، خرم کریم سومرو، شام سندر، ہیر سوہو، تنزیلہ ام حبیبہ، سیدہ ماروی فصیح، صادیہ جاوید، قرۃ العین خان، ڈاکٹر فوزیا حمید، مہیش کمار ہسیجا، نصیر احمد، محمد فاروق، ریحان بندوکڑا، محمد اویس اور سجاد علی سومرو شریک ہوئے۔ اس موقع پر سیکریٹری سندھ اسمبلی جی ایم عمر فاروق اور ڈائریکٹر جنرل سندھ اسمبلی عرفان احمد میمن، هما اکرم اللہ، صوبائی کوارڈنیٹر مستحکم پارلیمان اور اعزاز آصف ڈپٹی ٹیم لیڈر مستحکم پارلیمان پروجیکٹ بھی موجود تھے۔مستحکم پارلیمان پراجیکٹ کے ڈپٹی ٹیم لیڈر اعزاز آصف نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد اراکین نے مختلف تجاویز اور آراء پیش کیں. اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اسٹریٹجک پلان کو حتمی نظرِ ثانی کے لیے اسٹریٹجک پلان سب کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ سب کمیٹی کی منظوری کے بعد اسٹریٹجک پلان کمیٹی کے ممبران اور چیئرمین و اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ اسٹریٹجک پلان 29-2024 کی توثیق کریں گے۔ سید اویس قادر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو قانون سازی کے عمل میں شامل کر کے نہ صرف اسمبلی کی استعداد کار بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔






