کراچی( بلدیات ٹائمز)وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین اسٹیرنگ کمیٹی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت پانچویں اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اہم فیصلے و منظوری دی گئی۔اجلاس میں مئیر کراچی بیرسٹر مرتضٰی وہاب، مئیر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ، مئیر حیدرآباد کاشف شورو،میئر میرپور خاص عبدالرؤف، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ وسیم شمشاد علی،ا یم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی،ایڈیشنل سیکریٹری بجٹ اینڈایکس پینڈیچر، ایڈیشنل کمشنر کراچی، ویڈیو لنک پرمئیر شہید بینظیر آباد، ڈی سی لاڑکانہ و دیگر افسران موجود تھے۔

اجلاس میں چوتھی اسٹیرنگ کمیٹی کے منٹس کی منظوری دی گئی، صوبائی وزیر کی ہدایت پر منٹس کی منظوری پرتمام ممبران کی جانب سے دستخط کئے گئے تھے۔اجلاس میں ریوائزڈبجٹ کی منظوری کے لئے جو ہدایت دی گئی تھی اس میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں ماڈرن جی ٹی ایس کے لئے ٹیکنیکل اور کوالیفائڈ افسران و عملے کے عہدے تشکیل دینے کے لئے وزیر بلدیات نے کہا کہ ایک سب کمیٹی بنائیں اوراس پر مزید ورکنگ کرکے پروپوزل بنائیں اور اگلی میٹنگ میں ڈسکس کے لئے رکھیں۔ اس کے علاوہ ایجنڈے میں شامل صفائی ستھرائی کے کام کے لئے پائیدار نظام کی فراہمی جس میں ادارہ خود اپنے اخراجات پورے کرے گا کے سلسلے میں منصوبہ رکھا گیا جس میں صفائی ستھرائی کی مد میں رہائشی اور کمرشل ایریا میں گھر اور دکان کے رقبہ کے مطابق فیس رکھنے اور فیس کلیکشن کے سلسلے میں دو، تین منصوبوں پر بحث ہوئی۔اس کے علاوہ جدید جی ٹی ایس اور انجینئرڈ لینڈ فل سائٹ پر کچرے کی ریسائکلنگ کرکے ماحول کو آلودگی سے بچانے کے ساتھ ساتھ کاربن کریڈٹ حاصل کرنے کے منصوبے بھی پائیدار نظام میں شامل ہیں، وزیر بلدیات نے اس کے لئے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو مئیر کراچی کی تجاویز کے بعد مزید جامع بنائیں اور اگلی میٹنگ میں رکھیں۔اجلاس میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دفاتر دوسری جگہ بنانے کی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ وزیر بلدیات نے واضح طور پر احکامات دئیے کہ تمام نجی کمپنیز اور ادارے اپنے ملازمین کو سندھ حکومت کے تحت مقرر کردہ کم سے کم اجرت کی ادائیگی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ اجلاس کے اختتام پروزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ تمام اضلاع میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اپنے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مستحکم کرے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں۔






