⭐ پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس 2025 (عام فہم، سادہ اور آسان اردو ترجمہ)

سیکشن 1 — نام، اطلاق اور نفاذ

اس قانون کا نام پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 ہے۔

یہ پورے پنجاب میں لاگو ہوتا ہے۔

یہ قانون فوراً نافذ ہو جاتا ہے۔

سیکشن 2 — تعریفیں (Definitions)

اس قانون میں چند الفاظ کے معنی یہ ہیں:

کمیٹی: تنازعہ نمٹانے والی سرکاری کمیٹی۔

حکومت: پنجاب حکومت۔

غیر منقولہ جائیداد: زمین، عمارت، گھر، کھیت، بنے ہوئے کمرے، اور ہر وہ چیز جو زمین سے جڑی ہو۔

رکن (Member): کمیٹی کا کوئی بھی فرد۔

ٹربیونل: اس قانون کے تحت بنائی گئی خصوصی عدالت جو قبضے کے کیس سنتی ہے۔

سیکشن 3 — قانون کی بالادستی

اگر کسی دوسرے قانون میں کچھ اور لکھا ہو، تو بھی اس آرڈیننس کی بات مانی جائے گی۔

یعنی قبضے سے متعلق معاملات میں یہی قانون سب سے اوپر ہے۔

سیکشن 4 — غیر قانونی قبضہ (Illegal Possession)

جو شخص:

زبردستی

دھونس دھمکی

دھوکے

جعل سازی

جھوٹے کاغذات

غلط بیانی

یا بغیر اجازت

کے کسی جائیداد پر قبضہ کرے یا قبضہ برقرار رکھے، وہ جرم کرتا ہے۔

اس کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہے۔

سیکشن 5 — قبضے میں مدد یا سازش (Abetment / Conspiracy)

اگر کوئی شخص:

قبضہ کروانے میں مدد کرے،

جھوٹے کاغذات بنائے،

قبضہ برقرار رکھنے کے لئے سہولت دے،

یا سازش کرے،

تو وہ بھی جرم کرتا ہے اور اسے بھی وہی سزا ہو سکتی ہے جو قبضہ کرنے والے کو ہوتی ہے۔

سیکشن 6 — کمپنی یا ادارے کا جرم

اگر قبضہ کسی ادارے یا کمپنی نے کروایا ہو:

تو اس کمپنی کا ڈائریکٹر، منیجر یا ذمہ دار شخص بھی ذمہ دار ہوگا۔

لیکن اگر وہ ثابت کر دے کہ اسے معاملے کا علم نہیں تھا اور وہ روک نہیں سکا، تو وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔

سیکشن 7 — شکایت کیسے دائر کی جائے

متاثرہ شخص تحریری درخواست کے ذریعے کمیٹی میں شکایت کرے گا۔

درخواست کے ساتھ یہ معلومات ضروری ہیں:

جائیداد کی مکمل تفصیل

قبضے کا ثبوت

قبضہ کرنے والے کا نام

قبضے کی تاریخ، طریقہ اور نوعیت

کمیٹی درخواست وصول کر کے کارروائی شروع کر دے گی۔

سیکشن 8 — نوٹس اور کارروائی

کمیٹی ملزم کو نوٹس دے گی اور دونوں فریقوں سے بات سن کر کارروائی کرے گی۔

کمیٹی چاہے تو موقع پر جا کر بھی جائزہ لے سکتی ہے۔

سیکشن 9 — 90 دن میں فیصلہ

کمیٹی کوشش کرے گی کہ معاملہ 90 دن میں نمٹا دے۔

اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو یہ مدت مزید 90 دن بڑھائی جا سکتی ہے۔

سیکشن 10 — حل نہ ہونے پر معاملہ ٹربیونل کو بھیجنا

اگر کمیٹی معاملہ حل نہ کر سکے تو:

وہ کیس اپنے فیصلے اور رائے کے ساتھ ٹربیونل کو بھیج دے گی۔

ٹربیونل پھر اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔

سیکشن 11 — ٹربیونل کا قیام

حکومت ایک خصوصی ٹربیونل بنائے گی جس کا سربراہ سیشن جج کے برابر رینک رکھے گا۔

یہ ٹربیونل صرف جائیداد کے قبضے کے کیس سنے گا۔

سیکشن 12 — ٹربیونل کی حدودِ اختیار

ٹربیونل کے پاس یہ اختیارات ہیں:

وہ ثبوت طلب کرسکتا ہے

گواہ بلا سکتا ہے

ریکارڈ منگوا سکتا ہے

اور مکمل مقدمہ چلا کر فیصلہ دے سکتا ہے

یہ بالکل ایک مکمل عدالت کی طرح کام کرے گا۔

سیکشن 13 — جھوٹی شکایت پر سزا

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر:

جھوٹی

غلط

یا انتقامی

شکایت کرے، تو اس کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔

سیکشن 15 — ٹربیونل کے عدالتی اختیارات

ٹربیونل کے پاس:

سول کورٹ

اور سیشن کورٹ

جیسے مکمل اختیارات ہوں گے۔

سیکشن 16 — مقدمے کی کارروائی

ٹربیونل:

دونوں فریقوں کو سن کر

شواہد کا جائزہ لے کر

قانونی اصولوں کے مطابق

فیصلہ دے گا۔

اگر ضرورت ہو تو موقع پر جا کر بھی جگہ کا معائنہ کر سکتا ہے۔

سیکشن 18 — گرفتاری کا اختیار

ٹربیونل کے کہنے پر:

پولیس

یا کوئی سرکاری ادارہ

ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے، اگر جرم ثابت ہوتا نظر آئے۔

سیکشن 20 — اصل مالک کو فوری قبضہ واپس دلوانا

اگر ٹربیونل مطمئن ہو کہ قبضہ واقعی غیر قانونی ہے:

وہ حکم دے سکتا ہے کہ فوراً قبضہ اصل مالک کو واپس دیا جائے

پولیس اور انتظامیہ اس پر فوراً عمل کرے گی

یہ اس قانون کی سب سے طاقتور شق ہے۔

سیکشن 21 — رضاکارانہ واپسی

اگر قبضہ کرنے والا خود ہی جائیداد چھوڑ دے یا واپس کر دے

تو ٹربیونل اس بات کو ریکارڈ پر لا کر کارروائی مکمل کر دے گا۔

سیکشن 22 — حکومتی اداروں کی مدد

تمام سرکاری محکمے، جیسے:

ریونیو

پولیس

ڈپٹی کمشنر کا دفتر

ٹربیونل کی مدد کریں گے تاکہ قبضہ فوراً ختم کر کے مالک کو جائیداد دلائی جا سکے۔

سیکشن 26 — قواعد بنانے کا اختیار

حکومت اس قانون پر عملدرآمد کے لئے مزید قواعد بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button