وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے گلگت بلتستان ہارویسٹ ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی تناظر میں گلگت بلتستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور بہتر مستقبل کے لیے بروقت منصوبہ بندی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔ گلگت بلتستان گلیشیرز، منفرد موسم اور قدرتی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ
گلگت بلتستان کو زرعی زمین کی کمی کا سامنا ہے، تاہم جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زرعی شعبے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ زراعت ہی کے ذریعے معیشت اور علاقے کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔حکومت کا مقصد مقامی زرعی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت ویلیو ایڈیشن کے لیے درکار وسائل فراہم کرے گی جبکہ مقامی کسانوں اور زمینداروں کو جدید وسائل اور مشینری کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے گی۔زراعت، لائیوسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں جدید اصلاحات متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں لائیوسٹاک کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہے، جسے بڑھا کر 80 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر تمام شعبوں میں بین الاقوامی معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ ویلج اکانومی کو بہتر بنایا جائے گا اور دیہی معیشت میں انقلاب لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو خوشحال بنانے اور علاقے کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور زراعت، لائیوسٹاک اور دیگر پیداواری شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنائیں گے۔اس موقع پر صوبائی سیکریٹری زراعت عثمان احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سالانہ گلگت بلتستان میں تقریباً 40 ارب روپے مالیت کا دودھ، انڈے، گوشت اور دیگر اشیاء دیگر علاقوں سے منگوائی جاتی ہیں۔ ہارویسٹ ایکسپو 2026 گلگت بلتستان کی تاریخ کا پہلا بڑا ایکسپو ہے، جس میں 109 اسٹالز لگائے گئے ہیں۔گلگت بلتستان ملک کا پہلا خطہ ہوگا جو گائے اور بیل برآمد کرے گا۔ کسانوں کے لیے خوشخبری ہے کہ حکومت پہلی مرتبہ کسان کارڈ متعارف کرا رہی ہے، جس سے مقامی کسانوں کو سہولیات اور معاونت فراہم کی جائے گی۔






