​محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کی جانب سے "پیرا” (PERA) کے انڈر ٹریننگ افسران کیلئےاورینٹیشن سیشن کا انعقاد

محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کی جانب سے "پیرا” (PERA) کے زیرِ تربیت (انڈر ٹریننگ) افسران کے لیے ایک خصوصی اورینٹیشن سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں 100 سے زائد پیرا افسران نے شرکت کی۔ سیشن کے دوران ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ پنجاب عمران قریشی اور ایڈیشنل ڈی جی آزوبہ عظیم نے پیرا افسران کو پی سی ایم (PCM) کی کارکردگی، پرائس کنٹرول اور کنزیومر پروٹیکشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

​ڈی جی انفورسمنٹ عمران قریشی اور ایڈیشنل ڈی جی زوبہ عظیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے۔ پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "کنزیومر پروٹیکشن ایپ” پر اب تک 11,325 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 11,307 کا فوری ازالہ کر دیا گیا ہے۔

​ایڈیشنل ڈی جی آزوبہ عظیم نے پی سی ایم کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکپتن، لودھراں اور خوشاب نے ایپ رجسٹریشن میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد سے زائد کا ہدف حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اکتوبر 2026 کے لیے نئے اہداف مقرر کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت ٹیر 1 اضلاع کو 1500 رجسٹریشنز کا ہدف تفویض کیا گیا ہے۔​سیشن میں بتایا گیا کہ صارفین کے مسائل کے حل کے لیے محکمہ نے زبردست اقدام اٹھائے ہیں۔ صوبے بھر میں خراب مصنوعات کی مد میں 70 لاکھ روپے سے زائد کی رقم صارفین کو ریفنڈ کروائی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر 77 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 65 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی مصنوعات تبدیل (ریپلیس) کر کے صارفین کے حوالے کی گئی ہیں۔ ستمبر 2026 تک کنزیومر پروٹیکشن ایپ پر رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 69,100 تک پہنچ چکی ہے۔​اس موقع پرڈی جی انفورسمنٹ پنجاب نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں مصنوعات کی کوالٹی، سائزنگ اور نان پرائم سائزز کے خلاف سخت ضوابط کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ اشیاء کی تبدیلی اور واپسی (ریٹرن و ریپلیسمنٹ) کی مبہم پالیسیوں کے خاتمے کے لیے جامع فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ گمراہ کن اشتہار بازی اور ناقص مصنوعات بیچنے والے برانڈز کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ گارمنٹس، کاسمیٹکس اور مشروبات کی صنعت کے لیے سخت پالیسی وضع کی گئی ہے، جبکہ اشیائے خورونوش کی لیبلنگ اور ایکسپائری ڈیٹ درج نہ ہونے کی صورت میں سخت قانونی کاروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔​عمران قریشی نے مزید بتایا کہ صارفین کے مسائل کے تعین کے لیے 1 لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا سروے مکمل کیا گیا، جس میں گارمنٹس سیکٹر میں 46,500 سے زائد اور ای-کامرس میں 37,000 سے زائد صارفین نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ڈیش بورڈ کے ذریعے قیمتوں اور عوامی شکایات کی سخت مانیٹرنگ جاری ہے، اور صوبائی سطح پر قیمتوں کے کنٹرول و کنزیومر پروٹیکشن کے لیے نافذ العمل نظام مکمل طور پر فعال ہے۔

​

جواب دیں

Back to top button