اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خان تھا۔ 4 مئی 1905 کو ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گزری۔ والد پروفیسر محمود شیرانی اورئینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایوں اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ ۔9 ستمبر 1948 کو لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔
اختر شیرانی کو رومانی نظم نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی لیکن ان کے شعری مجموعوں میں غزلوں کی کمی نہیں۔ چند رباعیوں اور کچھ ماہییوں کے علاوہ ان کا شعری مجموعہ "طیور آوارہ” صرف غزلوں پر مشتمل ہے۔ "شہناز” اور "شہزدو” میں بھی قابل ذکر تعداد میں غزلیات موجود ہیں۔
اختر شیرانی کے کچھ اشعار
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا
اب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں
وہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں
اب تو ملیے بس لڑائی ہو چکی
اب تو چلئے پیار کی باتیں کریں
اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیں
محفلیں خواب کی صورت ہوئیں ویراں کیا کیا
غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی
دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا
غم عاقبت ہے نہ فکر زمانہ
پئے جا رہے ہیں جئے جا رہے ہیں
ہے قیامت ترے شباب کا رنگ
رنگ بدلے گا پھر زمانے کا
اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم
نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں
عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر
دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر
کانٹوں سے دل لگاؤ جو تا عمر ساتھ دیں
پھولوں کا کیا جو سانس کی گرمی نہ سہ سکیں
کام آسکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
کسی مغرور کے آگے ہمارا سر نہیں جھکتا
فقیری میں بھی اخترؔ غیرت شاہانہ رکھتے ہیں
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا
مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب
لیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں
محبت کے اقرار سے شرم کب تک
کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں
تھے وہ بھی کیا زمانے کہ رہتے تھے ساتھ ہم
وہ دن کہاں ہیں اب وہ زمانے کدھر گئے
……………….
او دیس سے آنے والے بتا
(ایک نووارد ہموطن سے کسی غریب الوطن کا خطاب!)
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
آوارہء غُربت کو بھی سُنا
وہ باغِ وطن ، فردوسِ وطن
کس حال میں ہیں یارانِ وطن؟
کس رنگ میں ہے کنعانِ وطن؟
وہ سروِ وطن، ریحانِ وطن؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں
کیا اب بھی وہاں کے پربت پر
کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں
مستانہ ہوائیں آتی ہیں؟
گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں؟
ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی
کیا اب بھی سُہانی راتوں کو
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے
سر مست نظارے ہوتے ہیں ؟
وہ چاند ستارے ہوتے ہیں ؟
اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں ؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی شفق کے سایوں میں
کیا اب بھی چمن میں ویسے ہی
برساتی ہوا کی لہروں سے
دن رات کے دامن ملتے ہیں ؟
خوش رنگ شگوفے کِھلتے ہیں؟
بھیگے ہوئے پودے ہِلتے ہیں ؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
شاداب و شُگفتہ پھولوں سے
بازار میں مالن لاتی ہے
اور شوق سے ٹُوٹے پڑتے ہیں
معموُر ہیں گُلزار اب کہ نہیں؟
پُھولوں کےگُندھےہاراب کہ نہیں؟
نو عمر خریدار اب کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شام پڑے گلیوں میں وہی
اور سڑکوں کی دُھندلی شمعوں پر
باغوں کی گھنیر ی شاخوں میں
دلچسپ اندھیرا ہوتا ہے؟
سایوں کا بسیرا ہوتا ہے؟
جس طرح سویرا ہوتا ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں
کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی
وہ حُسن کے جادو چلتے ہیں
اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں ؟
اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں ؟
وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
ویرانیوں کے آغوش میں ہے
تلواریں بغل میں دابے ہوئے
اور بہلیوں میں سےجھانکتے ہیں
آباد وہ بازار اب کہ نہیں ؟
پھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیں؟
ترکانِ سیہ کار اب کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی مہکتے مندر سے
کیا اب بھی مقدّس مسجد پر
اور شام کے رنگیں سایوں پر
ناقوس کی آواز آتی ہے؟
مستانہ اذاں تھرّاتی ہے؟
عظمت کی جھلک چھاجاتی ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر
انگڑائی کا نقشہ بن بن کر
اور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے
پنہاریاں پانی بھرتی ہیں؟
سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں؟
ہنستی ہوئی چُہلیں کرتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
برسات کے موسم اب بھی وہاں
کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں
اور دُور،کہیں کچھ دیکھتے ہی
ویسے ہی سُہانے ہوتے ہیں ؟
جُھولے اور گانے ہوتے ہیں؟
نو عمر دوانے ہوتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر
کیا اب بھی ہوائے ساحل کے
اور سب سے اُونچی ٹیکری پر
برسات کے بادل چھاتے ہیں؟
وہ رس بھرے جھونکے آتے ہیں؟
لوگ اب بھی ترانے٢گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں
ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں
گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں؟
برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں؟
موروں کی صدائیں گونجتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں ،میلوں میں وُہی
پھیلے ہُوئے بڑ کی شاخوں میں
اُمڈے ہُوئے بادل ہوتے ہیں
برسات کا جوبن ہوتا ہے؟
جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے؟
چھایا ہوا ساون ہوتا ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شہر کےگرد اب بھی ہے رواں
جُوں گود میں اپنے من کو لئے
یا نوُر کی ہنسلی،حُور کی گردن
دریائے حسیں لہرائے ہُوئے؟
ناگن ہو کوئی تھرّائے ہُوئے
میں ہو عیاں بل کھائے ہُوئے
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی فضا کے دامن میں
کیا اب بھی کنارِ دریا پر
کیا اب بھی اندھیری راتوں میں
برکھا کے سمے لہراتے ہیں؟
طوفان کے جھونکے آتے ہیں؟
ملّاح ترانے گاتے ہیں ؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں برسات کے دن
معصوم و حسیں دوشیزائیں
اور تیتریوں کی طرح سے رنگیں
باغوں میں بہاریں آتی ہیں؟
برکھا کے ترانے گاتی ہیں؟
جُھولوں پر لہراتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی اُفق کے سینے پر
دریا کے کنارے باغوں میں
اور اُن کے نشیلے جھونکوں سے
شاداب گھٹائیں جُھومتی ہیں؟
مستانہ ہوائیں جُھومتی ہیں؟
خاموش فضائیں جُھومتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں
وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں
اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے
احباب ، کنارِ دریا پر؟
شاداب ، کنارِ دریا پر؟
مہتاب ، کنارِ دریا پر؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا آم کے اُونچے پیڑوں پر
شاخوں کے حریری پردوں میں
ساون کے رسیلے گیتوں سے
اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں؟
نغموں کے خزانے کھولتے ہیں؟
تالاب میں امرس گھولتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی
کچھ بُھولے ہوئے دن گذرے ہیں
وہ کھیل، وہ ہمسِن، وہ میداں
وہ مدرسے کی شاداب فضا؟
جس میں، وہ مثالِ خواب فضا؟
وہ خوابگہِ مہتاب، فضا؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی کسی کے سینے میں
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے
او دیس سے آنے والے بتا! ب
اقی ہے ہماری چاہ بتا؟
اب یاروں میں کوئی آہ بتا؟
لللّہ بتا ، لللّہ بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا ہم کو وطن کے باغوں کی
برکھا کی بہاریں بُھول گئیں
دریا کے کنارے بُھول گئے
مستانہ فضائیں بُھول گئیں؟
ساون کی گھٹائیں بُھول گئیں؟
جنگل کی ہوائیں بُھول گئیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیاگاؤں٣ میں اب بھی ویسی ہی
دیہات کی کمسِن ماہوشیں
اور چاند کی سادہ روشنی میں
مستی بھری راتیں آتی ہیں؟
تالاب کی جانب جاتی ہیں؟
رنگین ترانے گاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی گجر دم چرواہے
اور شام کے دُھندلے سایوں کے
اور اپنی رسیلی بانسریوں میں
ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں؟
ہمراہ گھروں کو آتے ہیں؟
عشق کے نغمے گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں
معصوم گھروں سے بھور بھئے
اور یاد میں اپنے میکے کی
برکھا کی بہاریں چھاتی ہیں؟
چکّی کی صدائیں آتی ہیں؟
بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
دریا٤ کا وہ خواب آلودہ ساگھاٹ
وہ گاؤں وہ منظر، وہ تالاب
وہ کھیت، وہ جنگل، وہ چڑیاں
اور اُس کی فضائیں کیسی ہیں؟
اور اُسکی ہوائیں کیسی ہیں؟
اور اُن کی صدائیں کیسی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی پُرانے کھنڈروں پر
اَن پُورنا ڑ کے اُجڑے مندر پر
سُنسان گھروں پر چھاؤنی کے
تاریخ کی عبرت طاری ہے؟
مایوسی و حسرت طاری ہے؟
ویرانی و رقّت طاری ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا
بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی
ہم دونوں تھے جس کے پروانے
وہ غارتِ ایماں کیسی ہے؟
وہ آفتِ دوراں کیسی ہے؟
وہ شمعِ شبستاں کیسی ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
مرجانہ تھا جس کا نام بتا
جس پر تھے فدا طفلانِ وطن
وہ سروِ چمن، وہ رشکِ سمن
وہ غُنچہ دہن کس حال میں ہے؟
وہ جانِ وطن کس حال میں ہے؟
وہ سیم بدن کس حال میں ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی رُخِ گُلرنگ پہ وہ
کیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں
اور اُس کے گُلابی ہونٹوں پر
جنّت کے نظارے روشن ہیں؟
ساون کے ستارے روشن ہیں؟
بجلی کے شرارے روشن ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی شہابی عارض پر
یا بحرِ شفق کی موجوں پر
اور جن کی جھلک سے ساون کی
گیسوئے سیہ بل کھاتے ہیں؟
دو ناگ پڑے لہراتے ہیں؟
راتوں کے سے سُپنے آتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا!
اب نامِ خدا، ہو گی وہ جواں
دوشیزہ ہے یا آفت میں اُسے
گھر پر ہی رہی، یا گھر سے گئی
میکے میں ہے یا سُسرال گئی؟
کم بخت جوانی ڈال گئی؟
خوشحال رہی، خوشحال گئی؟
او دیس سے آنے والے بتا!

عکسِ خط بنام ڈاکٹر عبداللہ چغتائی (بشکریہ جناب حماد ناصر)






