موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
یہ شعر ثروت حسین کا ہے جن کی آج اٹھائیسویں برسی ہے ۔ برادرم مصطفےٰ نذیر احمد کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی کے صرف دو شاعر باقی رہیں گے۔۔۔ مجید امجد اور ثروت حسین !
اس بات سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ثروت حسین کے ایک اہم شاعر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ثروت حسین 9 نومبر، 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئےاور 9 ستمبر، 1996ء کو کراچی میں ٹرین کے حادثے میں انتقال کرگئے ، کہا جاتا ہے کہ خود کشی کی۔ ان کا پہلا مجموعہ آدھے سیارے پر 1989ء میں شائع ہوا تھا ۔ دوسرا مجموعہ کلام خاک دان ان کی وفات کے بعد 1998ء میں اشاعت پزیر ہوا۔ایک کٹورا پانی کا، 2012 میں اور کلیات ثروت حسین2016 میں شائع ہوئی۔
اجمل نیازی کہتے ہیں ’’ اس نے خودکشی کی تو پھر خودکشی اورشہادت میں کیا فرق ہے۔ جنرل نیازی ڈھاکے کے پلٹن میدان میں خودکشی ہی کرلیتا تو میں فتویٰ دیتا کہ یہ شہادت ہے۔یہ معرکہ ثروتؔ نے اپنی ذات میں کردیاتھا۔ وہ پہلے ہی اپنےاندر شہید ہوچکاتھا۔ شہید بھی اپنے آپ کو اس نے خود کیا ہوگا۔ جو سچی طرح خود کشی کرتےہیں وہ غلط نہیں ہوتے ۔ آدمی قاتل ہوتا ہے یا مقتول ہوتا ہے۔‘‘
ثروت حسین کے کچھ شعر
آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام
یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر
اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیں
تو نہیں خسارے میں میں نہیں خسارے میں
اپنے لیے تجویز کی شمشیر برہنہ
اور اس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا
دشت چھوڑا تو کیا ملا ثروتؔ
گھر بدلنے کے بعد کیا ہوگا
دو ہی چیزیں اس دھرتی میں دیکھنے والی ہیں
مٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو
اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام
وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی
جسے انجام تم سمجھتی ہو
ابتدا ہے کسی کہانی کی
لے آئے گا اک روز گل و برگ بھی ثروتؔ
باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا
میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے
بلا کا رنگ تھا رنگینیٔ قبا سے ادھر
میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں
اک اژدہا چراغ کی لو کو نگل گیا
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
آئینہ عورت کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے
عورت تخلیق کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتی ہے
ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر
اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا
مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سر
کسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں
نئی نئی سی آگ ہے یا پھر کون ہے وہ
پیلے پھولوں گہرے سرخ لبادوں والی
پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھہ کر
اک کشش ماہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی
قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا
کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا
ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو
جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا
شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک
کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں
سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہ
انہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا
سوچتا ہوں دیار بے پروا
کیوں مرا احترام کرنے لگا
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں
بچ نکلنےکے بعد کیا ہوگا
صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کا
گل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا
سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں
میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں
یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں
مجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا
یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے
اور انتظام مکان و سرا بدلنے لگا
بہت مصر تھے خدایان ثابت و سیار
سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کیے
بجھی روح کی پیاس لیکن سخی
مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے
حسن بہار مجھ کو مکمل نہیں لگا
میں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے
خوش لباسی ہے بڑی چیز مگر کیا کیجے
کام اس پل ہے ترے جسم کی عریانی سے
میں کتاب خاک کھولوں تو کھلے
کیا نہیں موجود کیا موجود ہے
آج اس چشم فسوں ساز نے پوچھا مجھہ سے
کیا ترا سیر و سفر بس اسی منزل تک ہے
لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا
بادل تھا اور جَل پریوں کے ساتھ رہا
کون تھا میں،یہ تو مجھ کو معلوم نہیں
پُھولوں،پتّوں اوردِیوں کے ساتھ رہا
مِلنا اور بچھڑ جانا کِسی رستے پر
اک یہی قصّہ آدمیوں کے ساتھ رہا
وہ اک سُورج صبح تلک مرے پہلو میں
اپنی سب ناراضگیوں کے ساتھہ رہا
سب نے جانا بہت سبک،بے حد شفاف
دریا تو آلودگیوں کے ساتھ رہا
قندیل ِ مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا
کُچھہ اس سے زیادہ ہے مِرا خاک پہ ہونا
ہر صبح نِکلنا کِسی دیوار ِ طرب سے
ہر شام کِسی منزل ِ غم ناک پہ ہونا
یا ایک ستارے کا گُزرنا کسی دَر سے
یا ایک پیالے کا کِسی چاک پہ ہونا
لَو دیتی ہے تصویر نہاں خانہِ دِل میں
لازم نہیں اِس پھول کا پوشاک پہ ہونا
لے آئے گا اِک روز گل و برگ بھی ثروت
باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا
یہ جو پُھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہو گا
روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہو گا
زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی
ایسی دُھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہو گا
گھایل پنچھی تیرے کُنج میں آن گِرا ہے
اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہو گا
میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں
یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہو گا
شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا
لیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہو گا
ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو
جیسے ان لوگوں سے مِلنا پھر نہیں ہوگا

ثروت حسین کے ہاتھ سے لکھی ہوئی یہ غزل شاید غیر مطبوعہ ہے. یہ انہوں نے برادرم رفیق احمد نقش کو ان کے قلمی جریدے کیلئے دی تھی. اس کیلئے بشیر عنوان صاحب کا شکریہ.






