وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس،کم از کم اجرت 37 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔سندھ پبلک سروس کمیشن (ریکیورٹمینٹ مینجمنٹ) ضوابط میں ترمیم منظور کی گئیں۔ایس سی ترمیم کے تحت پاس امیدوار کی منتظر فہرست بنانے کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔اگر کوئی امیدوار پاس کرنے کے بعد جوائن نہیں کرتا تو اسامی خالی ہوجاتی ہے۔منتظر فہرست ہوگی تو خالی جگہ پر ترتیبوار امیدوار جوائن کرے گا۔فیڈرل پبلک سروس کمیشن بھی منتظر فہرست ترتیب دیتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی۔کابینہ نے ایس پی ایس سی کے رولز میں ترمیم کی باقاعدہ منظوری دیدی۔سندھ کابینہ نے 37000 روپے کم از کم اجرت مقرر کرنے کی منظوری بھی دیدی۔سندھ کابینہ نے وزیراعظم کے وومین امپاورمینٹ پیکج میں شامل ہونے کی منظوری بھی دی۔صوبائی وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمینٹ کو پیکج میں شمولیت کیلئے کام کرے ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے وومین امپاورمینٹ پیکج 2024ء کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم پیکج میں سندھ حکومت بھی اپنی طرف سے اتنے ہی فنڈز خرچ کرے گی۔ سندھ کے مختلف اضلاع میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کئے جائینگے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بل نہ ملنے یا لائن لاسز کے بھانے پورا فیڈز بند کردیتی ہیں، ناصر حسین شاہ نے اس حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں لائن لاسز یا ٹیکنیکل لاسز کا بوجھ علاقے کے لوگوں پر ڈال نہیں سکتی، وزیراعلیٰ سندھ نے واضع کیا ۔لائن لاسز یا ٹیکنیکل لاسز ریوینو کلیکشن کے نظام کی نااہلی ہے، وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے تفصیلی طور پر رپورٹ پیش کی۔بجلی کئی چوری کا نقصان بھی عوام پر نہیں ڈالا جا سکتا ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے تقسیم کار کمپنیاں خود اقدامات لیں۔وفاقی حکومت کو کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو پورا فیڈز بند کرنے سے روکا جائے۔سندھ کابینہ نے تجویز منظور کر کے وفاقی حکومت سے کارروائی کی سفارش کی ۔

جواب دیں

Back to top button