وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت مختلف محکموں کے مشترکہ اجلاس میں پائپ لائن اور کچھ دیگر نئے منصوبے جو ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے شروع کر سکتے ہیں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا جس میں صوبائی وزراء، وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، وزیر توانائی ناصر شاہ، وزیر صنعت جام اکرام، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔ کراچی کیلئے مزید 500 الیکٹرک بسوں کی طلب: اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث کراچی کا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کافی پرانا ہوچکا جس کی وجہ زیادہ بھیڑ، ناکارہ اور ماحول کو نقصان پہنچانے والے اقدامات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز بس سروس، الیکٹرک بسوں اور پنک بسوں کی شمولیت سے فرق پڑا ہے لیکن اس کے باوجود شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئائل کو حل کرنے کیلئے مزید بسوں کے ایک بیڑے کی ضرورت ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے ان کے محکمے نے انہیں شہر کے ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک میں 500 مکمل الیکٹرک بسیں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے مسافروں کے تجربے میں اضافہ، ٹریفک کی بھیڑ میں کمی اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی تجویز پر ڈونر ایجنسیوں سے بات چیت شروع کر دی ہے امید ہے کہ وہ فنڈز محفوظ کر لیں گے۔ انہوں نے پی اینڈ ڈی اور ٹرانسپورٹ کے محکموں کو مطلوبہ کاغذی کارروائی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ 300 ڈیزل ہائبرڈ بسیں: وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی سے باہر سندھ بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو اس کی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید اور وسعت دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ صوبہ معاشی اور سماجی طور پر ترقی کرتا جا رہا ہے، موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ کی پیشکشیں رفتار برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے کہا کہ ان کا محکمہ 300 ڈیزل ہائبرڈ بسیں خریندے کی تجویز پر کام کر رہا ہے جس میں سندھ کے پانچوں ڈویژنوں میں سے ہر ایک کو 60 بسیں مختص کی جائیں گی تاکہ کنیکٹیوٹی، ماحولیاتی معیار اور تمام رہائشیوں کیلئے ٹرانسپورٹ کے ایک قابل اعتماد اور موثر طریقہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک ڈویژن حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد کو 60 بسیں دی جائیں گی۔ 300 ای وی بسیں: اجلاس میں صوبے میں انٹرسٹی ٹرانسپوریشن کیلئے 300 ای وی بسوں کی خریداری کے ایک اور منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 300 ڈیزل-ہائبرڈ/ای وی بسیں انٹرسٹی ٹرانسپورٹیشن کیلئے ہیں جو صوبے بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کو جوڑتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کو عوام کے لیے ایک کفایتی، محفوظ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ آپشن فراہم کرنا چاہیے، نجی آپریٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے اور حفاظتی خدشات کو ختم کرنا چاہیے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ منصوبے کے تحت کراچی کو 60، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد کو 50، 50 اور میرپورخاص کو 40 ای وی ایم بسیں دی جائیں گی۔ ییلولائن بی آر ٹی: وزیر ٹرانسپورٹ نے وزیراعلیٰ کو ییلولائن بی آر ٹی منصوبے کی سپلائی اور آپریشن کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نجی آپریٹر کو فنانس، خریداری، سپلائی، بسیں چلانے اور مختلف سسٹمز کو برقرار رکھنے اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کوریڈور کا ڈیزائن تھرڈ جنریشن بی آر ٹی تھا۔ مرکزی بی آر ٹی ٹرنک کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک 21 کلومیٹر طویل وقف شدہ کوریڈور پر مشتمل ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ بیٹری الیکٹرک بسوں کی ٹیکنالوجی کا آپشن زیر غور ہے۔ وزیراعلیٰ نے ٹرانسپورٹ اور پی پی پی یونٹ کو نومبر 2024 کے آخر تک فزیبلٹی مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ضلع غربی کیلئے ری سائیکل شدہ پانی: ویسٹ کراچی ری سائیکلڈ واٹر پروجیکٹ-ون (WKRWP) سائیٹ کراچی میں صنعتوں کو 35 ایم جی ڈی گندے پانی کو ٹریٹ کرنے اور 27 ایم جی ڈی تقریباً صنعتی علاقوں کو پانی فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ صنعتی علاقوں کو پانی فراہم کرے گا، جس سے شہر کے دیگر مقامات پر درکار میٹھے پانی پر انحصار کم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ٹریٹ شدہ پانی کو سمندر میں چھوڑ کر ماحولیاتی استحکام میں بھی اضافہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ 24 نومبر تک پراجیکٹ کو ایک نظرثانی شدہ لین دین کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ فنڈنگ کے لیے ڈونر ایجنسیوں سے رابطہ کیا جا سکے۔ ٹی پی ۔4 گندے پانی کی صفائی اور ری سائیکلنگ پروجیکٹ: ٹی پی-4 پروجیکٹ کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں صنعتوں کو پانی فراہم کرنے کیلئے 22 کلومیٹر طویل انٹرسیپٹر، تقریباً 120 ایم آئی جی ڈی کے پرائمری اور سیکنڈری ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ ٹرٹیری ٹریٹمنٹ اور 40 ایم آئی جی ڈی کے آر او کی تعمیر کیلئے ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈونر ایجنسیوں نے فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے، اور ان کی کابینہ نے اس منصوبے کے لیے فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ منصوبہ فزیبلٹی سٹیج میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ آئندہ دو ماہ میں اس کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرلی جائے۔ کول گیسی فکیشن: وزیراعلیٰ نے کہا کہ کول گیسی فکیشن ٹیکنالوجی بہت سے ترقی یافتہ ممالک جیسے جنوبی افریقہ، امریکہ، چین اور دیگر میں کامیابی سے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئلے کے بہت بڑے ذخائر (184 ارب ٹن) ہیں جنہیں SNG کی پیداوار سے شروع ہونے والی مناسب ٹیکنالوجیز کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ ملک میں گیس کی تقسیم کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے اور مجوزہ کوئلہ سے گیسی فکیشن منصوبہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ ناصر شاہ نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے ذریعے 1200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی کو ایک منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی اور وہ اسے سی پیک یا کسی علیحدہ منصوبے میں شامل کرنے کے لیے چینی حکام سے بات کریں گے۔ پیسٹ سرویلنس سسٹم: وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چین نے اگریکلچرل پیسٹ سرویلنس کی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فصلوں کی بیماریوں اور کیڑوں کی مؤثر طریقے سے نگرانی اور انتظام کرنے کے لیے ریموٹ سینسنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (UAVs) کے امتزاج کا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت اور پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کو کابینہ سے منظوری کے لیے تیار کریں۔ بنجر علاقوں میں زراعت کیلئے ٹیکنالوجی: مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے محکمہ زراعت کو پہلے ہی ہدایت کی ہے کہ وہ غربت میں کمی کے لیے صوبے کے بنجر علاقوں میں زراعت کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول کا منصوبہ تیار کرے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چین نے کئی جدید ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں جو پانی کی کمی والے علاقوں جیسے تھرپارکر، کاچھو اور سندھ کے دیگر بنجر علاقوں میں زراعت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیکنالوجیز کو سندھ میں عملدرآمد کرنے سے پانی کی کمی والے علاقوں میں زرعی پیداوار اور پائیداری میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور مزید کہا کہ تعاون کے لیے چینی حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔
Read Next
14 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آبادی میں بےقابو اضافے کو سنگین سماجی اور معاشی چیلنج قرار دے دیا
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
4 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
4 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
4 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
Related Articles
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
5 دن ago
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
1 ہفتہ ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
1 ہفتہ ago



