ماہی گیری کا عالمی دن کی مناسبت سے صوبائی وزیر لائیواسٹاک اینڈ فشریز سندھ محمد علی ملکانی کا پیغام

وزیر لائیواسٹاک اینڈ فشریز سندھ محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماہی گیری کا عالمی دن ہر سال 21 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ماہی گیری اور ماہی پروری سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے، تاکہ عام لوگ مچھلی، ماہی گیری اور ماہی پروری کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور آج کے دور میں جہاں ماحولیاتی تبدیلی نے قدرتی وسائل کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اس سے بھی نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پیدا کریں۔ محمد علی ملکانی نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ ماہی گیری کی صنعت سے صوبہ بلوچستان اور سندھ میں لاکھوں افراد روزگار کماتے ہیں۔ خاص کر ساحلی علاقوں کے لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش یہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں ماحولیاتی آلودگی، موسمی تبدیلی، آبی ذخائر کے غیر قانونی طریقوں کے استعمال نے ماہی گیری کی صنعت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جس کی وجہ سے آبی ذخائر میں نصف فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ماگیری سے حاصل ہونے والی مچھلی، جھینگے، کیکڑے، شیل فش، وغیرہ سے ہماری خوراک کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا ہوتا ہزار اس سے کثیر زرمبادلہ بھی کمایا جاتا ہے۔

صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ نے کہا کہ مچھلی موجود غذائیت جسم کی نشوونما میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے خاص کر اومیگا ترئ۔ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نہ صرف دنیا بلکہ پاکستان میں بھی غذائی قلت کا خطرہ درپیش ہے۔ ایسے میں قدرتی وسائل کا بچاؤ اور ان کا ذمہ دارانہ استعمال اور ماہی پروری کے جدید طریقوں سے کمرشل اقسام کی مچھلیوں، کیکڑوں، جھینگوں کی افزائش سے ان وسائل کو لمبے عرصے تک قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے اور اس سے ہماری غذائی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔

جواب دیں

Back to top button