مذاکرات جمہوریت کا حسن ہیں، اگر ہم دشمن ممالک سے مذاکرات کر سکتے ہیں تو نو مئی کے ملزمان سے کیوں نہیں،مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مذاکرات جمہوریت کا حسن ہیں، اگر ہم دشمن ممالک سے مذاکرات کر سکتے ہیں تو نو مئی کے ملزمان سے کیوں نہیں، وہ تو ہمارے پاکستانی شہری ہیں۔ ان لوگوں سے بات کرنا ضروری ہے جنہیں گمراہ کیا گیا ہے اور انہیں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے مزار قائد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ نے کابینہ ارکان کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی اور بانی پاکستان محمد علی جناح کوخراج عقیدت پیش کیا۔

بات چیت کے آغاز میں مراد علی شاہ نے قائداعظم کی 148ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے مسیحی برادری کو بھی کرسمس کی مبارکباد دی اور یاد کرایا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہ ملک تمام مذاہب کی آزادی کےلیے بنایا گیا ہے۔ تمام مذاہب کے ماننے والے اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جا کر عبادت کرنے کےلیے آزاد ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہمارا پیارا پاکستان بنایا اور اس ملک کو بیرونی سازشوں سے بچانے کی اہمیت واضح کی۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہم پاکستان کو قائداعظم کے ویژن کے مطابق آنے والی نسلوں کےلیے پرامن اور خوشحال بنائیں گے۔ قوم کی خوشحالی اتحاد میں مضمر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، شہید محترمہ بےنظٰیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی دفاع کو مضبوط کیا۔ انہوں نے سرحدوں کی حفاظت اور دہشتگردی کے خاتمے کےلیے پاک فوج کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ شہدائے جمہوریت نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر ملک میں جمہوریت کو بحال کیا۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان معاشی، سیاسی اور سماجی بحران سے باہر نکل رہا ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فلسطین میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کی، انہوں نے اسلامی ممالک اور پوری دنیا پر زور دیا کہ فلسطین اور کشمیر میں مظالم ختم کرانے کےلیے کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر میں مظالم کا اثر پورے خطے پر ہو رہا ہے، عالمی برادری کےلیے ضروری ہے کہ پرامن دنیا کےلیے قتل عام اور مظالم کو ختم کرایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ہمیشہ امن کا گہوارہ رہا ہے اور انشا اللہ رہے گا۔ غیرقانونی تارکین وطن کو نکالنے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک ہیں۔

زاہد میرانی کے غیرقانونی افغان شہری کے ہاتھوں قتل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت میں افغانوں کےلیے عام معافی کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت سندھ نے کرمنل ریکارڈ سے ایسے لوگوں کی شناخت کی اور انہیں ملک بدر کیا۔ حکومت سندھ ایک بےگناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتی ہے اور ہم کسی قاتل کو سزا سے بچنے نہیں دیں گے۔ قاتل انصاف کا سامنا کریں گے اورہم متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

مراد علی شاہ نے حکومت پر کچھ نہ کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے صوبے کے عوام کےلیے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ جب جب کوئی ایشو کھڑا ہوتا ہے پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے عوام کے مفاد کےلیے آگے بڑھ کر بات کرتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ ان کے باقاعدہ احتجاج کے بعد ہی وفاقی حکومت نے اس سال سندھ کی ترقیاتی اسکیموں کےلیے 180 ارب روپے مختص کیے ہیں ورنہ تو پچھلے سال تک یہ رقم کم ہو کر پانچ چھ ارب روپے تک رہ گئی تھی تاہم انہوں نے فنڈز کے اجرا میں تاخیر پر تنقید کی اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

نامکمل منصوبوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ جامشورو سیہون روڈ 2017 میں شروع کیا گیا جس کےلیے آدھے فنڈزجو حکومت سندھ نے اپریل 2017 میں دے دیے تھے ، اس کے باوجود منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے سمیت ادھورے منصوبے وفاقی فنڈنگ سے جلد مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی حیدرآباد موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کیا گیا تاہم دوسرے صوبوں میں ایسے ہی منصوبے سی پیک کے ذریعے وفاقی فنڈنگ سے تعمیر کیے گئے۔ یہ امتیازی سلوک عمران خان حکومت کے دوران شروع ہوا۔

مراد علی شاہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا تھا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر نہیں کیا جاسکتا جبکہ ان کے وزرا کا اصرار تھا کہ ایسا ممکن ہے لیکن فنڈز کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ ناکام ہوگیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ چینی فنڈنگ کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی فنڈنگ سے سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر کریں کیونکہ یہ صرف سندھ کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ بندرگاہ سے پورے ملک کے کمرشل ٹریفک کےلیے ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے تاجروں نے بھی ان سے شکایت کی ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کیوں نہیں بنایا جا رہا۔

مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت سندھ کے پاس وسائل محدود ہیں اور مالی چیلنجز کی وجہ سے وہ بڑے منصوبے نہیں بنا سکتے۔ اس کے باوجود ٹھٹھہ کراچی دو رویہ وفاقی روڈ حکومت سندھ نے بنایا اور جامشورو سیہون روڈ کےلیے پچاس فیصد فنڈنگ مہیا کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خوشگوار ماحول میں گورنر سندھ کو جواب دیا کہ کراچی میرا شہر ہے اور ان کی درخواست پر ہی وزیراعظم نے پانی کے منصوبوں کےلیے فنڈز دیے جن میں کے 4 منصوبے کےلیے 25 ارب روپے اور 40 ارب روپے کی لاگت والے کے بی فیڈر منصوبے کے لیے آدھی رقم وفاقی حکومت نے ادا کی۔

اس سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کی مناسبت سے مزار قائد پر پھولوں کی چار چڑھائی، فاتحہ پڑھی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کیے۔

جواب دیں

Back to top button