*آج مولانا محمد حسین آزاد کی 115 ویں برسی ہے*

اردو ادب کے عناصر خمسہ میں سے ایک ، انشا پرداز، شاعر، ادیب، نقاد، مورخ اور استاد محمد حسین آزاد 5جون 1830 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور دہلی کی مٹی 22 جنوری1910 کو لاہور میں پیوند زمین ہوئی.

یہ مزار کربلائے گامے شاہ میں ہے.

مولانا حالی نے ان کی وفات پر کیا خوب تاریخ نکالی تھی۔۔۔

تاریخ وفات اس کی جو پوچھے کوئی حالی

کہہ دو کہ ہوا خاتمہ اردو کے ادب کا

 

محمد حسین آزاد نے اپنے والد سے اور پھر ذوق کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی ۔ بعد ازاں دہلی کالج میں داخل ہوئے جہاں مولوی نذیراحمد، ذکاء اللہ اور پیارے لال آشوب سے ہم سبق ہونے کا موقع ملا

والد کا نام مولوی محمد باقر تھا، جنہوں نے 1837 میں دہلی سے پہلا اخبار’’ اردو اخبار‘‘ نکالا۔ 1854 میں محمد حسین آزاد بھی اس میں ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ہوگئے۔1857 کے غدر ( جنگ آزادی) کے زمانہ میں اردو اخبار نے انگریزوں کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کئے ۔انگریزوں کے خلاف بغاوت مکمل طور پر ناکام ہوگئی تو پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ۔مولانا باقر گرفتار کرلیے گئے اور انہیں گولی مادی گئی۔محمد حسین آزاد بھاگ کر روپوش ہوگئے۔ آخر انہوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی اور وہ اپنے تمام خاندان کو لے کر لکھنؤ پہنچے۔ تلاش معاش میں کئی سال مارے مارے پھرتے رہے آخر 1864ء میں لاہور چلے آئے اور مولوی رجب علی کی سفارش پر گورنمنٹ کالج لاہور میں پندرہ روپے ماہوار پر ملازم ہوگئے۔ میجر فلر ڈائرکٹر سررشتہ تعلیم کو ان کی گوناگوں صلاحیتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سرکاری اخبار ’’ اتالیق پنجاب‘‘ کا نائب مدیر مقرر کر دیا۔ اس رسالے کے بند ہونے پر ’’پنجاب میگزین‘‘ نکلتا رہا۔ 1865ء میں آزاد کابل اور بخارا گئے۔ دوسرا سفر انہوں نے 1883ء میں کیا۔ اس طرح انہیں جدید فارسی سیکھنے کا موقع ملا۔

1873ء میں کرنل ہالرائیڈ نے انجمن پنجاب قائم کی اور ایک خاص قسم کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے نظم لکھنے کے لیے عنوان دیاجاتا تھا۔ ان مشاعروں میں آزاد اور الطاف حسین حالی ذوق و شوق کے ساتھہ حصہ لیتے رہے اور متعدد اخلاقی اور نیچرل نظمیں لکھیں۔

آزاد گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی فارسی کے پروفیسر بھی رہے اور 1887میں ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی پر شمس العلماء کا خطاب پایا۔ دماغی تھکاوٹ اور جوان بیٹی کی بے وقت موت کی وجہ سے 1889ء میں جنون کے آثار پیدا ہوگئے۔ آخری عمر تک یہی حالت رہی اور 22 جنوری 1910ء کو 80 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پائی۔

تصانیف

آب حیات

نیرنگ خیال

سخن دان فارس

 

▼اردو ادب کے عناصر خمسہ

سر سید احمد خان (1817ء – 1898ء) محمد حسین آزاد (1830ء – 1910ء) ڈپٹی نذیر احمد (1836ء – 1912ء) الطاف حسین حالی (1837ء – 1914ء) شبلی نعمانی (1857ء – 1914ء)

جواب دیں

Back to top button