سندھ کابینہ نے زرعی آمدنی پر ٹیکس کی منظوری دے دی، سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار جبکہ سالانہ 56 لاکھ روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 45 فیصد ہوگی۔ پروگریسو سپر ٹیکس بھی متعارف کرادیا گیا جس کے تحت سالانہ 15 کروڑ روپے تک کی زرعی آمدنی پر کوئی سپر ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ سالانہ 50 کروڑروپے سے زائد آمدنی پر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
کابینہ کا اجلاس پیر کی صبح وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
نیا زرعی آمدنی ٹیکس
صوبوں اور وفاقی حکومت کے درمیان قومی مالیاتی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق سندھ کابینہ نے سندھ زرعی آمدنی ٹیکس قانون کی منظوری دے دی ہے، اب یہ قانون منظوری کےلیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔ یہ تدریجی قانون سازی صوبے کے ٹیکس وصولی کے نظام کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے میں مالیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت ایک مؤثر اور منظم نظام کو یقینی بنانے کےلیے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) زرعی آمدنی ٹیکس کی وصولی اور نفاذ کا ذمہ دار ہوگا۔ مجوزہ سندھ زرعی آمدنی ٹیکس بل 2025 یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی جبکہ سالانہ 56 لاکھ روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ سے زیادہ 45 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
اس کے علاوہ ایک تدریجی سپر ٹیکس بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت سالانہ 15 کروڑ روپے تک کی زرعی آمدنی پر کوئی سپر ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
مزید برآں بل کا مقصد کارپوریٹ فارمنگ کو بھی ٹیکس کے دائرے میں شامل کرنا ہے۔ چھوٹی کمپنیوں پر سالانہ زرعی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ بڑی کمپنیوں کے لیے ٹیکس کی شرح 29 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مویشیوں کو ٹیکس کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا اور زمین کی کاشت کی بنیاد پر لیا جانے والا پیشگی زرعی آمدنی ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ زیادہ مؤثر اور شفاف نظام یقینی بنانے کےلیے ٹیکس کی ادائیگی، وصولی اور فائلنگ کا عمل مکمل طور پر خودکار بنا دیا جائے گا۔
یہ قانون ایک اہم پالیسی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جس کے تحت زرعی آمدنی ٹیکس کی انتظامیہ سندھ ریونیو بورڈ کو سونپ دی گئی ہے۔ ایس آر بی ٹیکس وصولی اور جدید کاروباری طریقہ کار کے نفاذ میں ایک مستند ادارہ ثابت ہوا ہے۔

توقع ہے کہ یہ نئی قانون سازی ٹیکس نیٹ کو وسعت دے گی، شفافیت کو بہتر بنائے گی اور زرعی شعبے سے مساوی شراکت کو یقینی بنائے گی جو سندھ کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کی ششماہی رپورٹ
کابینہ کو بتایا گیا کہ فی الحال ساتواں این ایف سی ایوارڈ (2010) نافذ العمل ہے۔ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت مقرر کردہ محصولات کی تقسیم کے فارمولے کے مطابق صوبوں کو ان کا حصہ منتقل کرتی ہے۔
قابل تقسیم پول میں شامل محصولات میں انکم ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، سیلز ٹیکس (خدمات پر جی ایس ٹی کے علاوہ)، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کے علاوہ)، کسٹمز ڈیوٹی (ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے علاوہ) شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ قابل تقسیم پول کی تقسیم کے اشارے میں آبادی کا وزن 82 فیصد، غربت اور پسماندگی کا 10.30 فیصد، ریونیو کی وصولی/پیداوار کا 5 فیصد اور غیرمقامی آبادی کی زیادتی کا 2.7 فیصد ہے۔ پنجاب کا تقسیم شدہ پول میں 51.74 فیصد حصہ ہے، اس کے بعد سندھ کا 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کا 14.62 فیصد اور بلوچستان کا 9.09 فیصد حصہ ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے 22-2021 کے دوران (جنوری سے جون 2022 تک) 489.067 ارب روپے وصول کیے۔ گزشتہ تین سالوں – 22-2021، 23-2022، اور 24-2023 کے دوران سندھ کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے اپنے حصے کے طور پر مجموعی طور پر 3,002.43 ارب روپے وصول ہوئے۔ یہ رقم 77.16 ارب روپے کم تھی۔ حال ہی میں سندھ کو ان 77.16 ارب روپے کے واجبات کا ادائیگی کی گئی۔ اس دوران سندھ حکومت کو براہ راست منتقلی کے تحت 1,325.35 ارب روپے دیے گئے تھے تاہم یہ رقم بھی 126.64 ارب روپے کم تھی۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں اس کمی کو بھی پورا کیا ہے۔
کابینہ نے ششماہی این ایف سی رپورٹ (جنوری تا جون 2022) کی صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔
سندھ کابینہ کا کاغذی کام ختم کرنے کا فیصلہ
طرز حکمرانی میں جدت لانے اور کارکردگی کو بڑھانے کی کوشش میں سندھ حکومت نے اپنی کابینہ کی کارروائیوں کے لیے ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن مہم کا آغاز کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن نے وفاقی حکومت کے 2021 میں کیے گئے ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کی طرز پر ایک نیا سندھ کابینہ ای-پورٹل متعارف کرایا ہے۔
اس اقدام کا مقصد کاغذ سے پاک اور وائرلیس ماحول پیدا کرنا ہے جس کے تحت ہر کابینہ کے رکن کو آئی پیڈ اور سم بیسڈ انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی فراہم کی جائے گی۔ یہ روایتی لین کنکشنز کی جگہ لے گا اور ای آفس اور ای گورننس کے مکمل فریم ورک کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
ای-پورٹل کابینہ کے اراکین کو کابینہ کے ورکنگ پیپرز اور وزیراعلیٰ کے لیے باقاعدہ سمریوں تک رسائی فراہم کرے گا اور اجلاس کے منٹس کی ڈیجیٹل منظوری اور ایجنڈے کی سرکولیشن کو مخصوص ایپ اور ای-سگنیچرز کے ذریعے آسان بنائے گا۔ کابینہ کے اراکین کو اپنے آئی پیڈز پر حقیقی وقت میں پاپ اپ نوٹیفیکیشنز بھی موصول ہوں گی جس سے وہ تمام واقعات اور تبدیلیوں سے باخبر رہیں گے۔






