کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی، عدم دلچسپی اور بدانتظامی کے باعث کراچی سیوریج کی ٹریٹمنٹ کا سب سے بڑا منصوبہ گذشتہ 7 سال میں مکمل نہ ہوسکا۔ TP-1 ہارون آباد شیر شاہ، TP-III میں ٹریٹمنٹ پلانٹس چلانے اور لیاری ندی کا گندھا پانی کنڈیوٹ کا منصوبہ 24 ارب روپے مالیت میں مکمل ہونا تھا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بروقت فنڈز جاری نہ ہونے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے باعث منصوبہ کی لاگت میں 100 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ منصوبہ پر اب تک 13 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ ٹھیکے داروں کے واجبات 70 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔صر ف لیاری ندی میں کنڈیوٹ لائن کی تکمیل ہوچکی ہے،اس لائن کو ٹریٹمنٹ پلانٹس سے ملانا ہے۔ٹھیکیدار منصوبہ حوالے کرنے کو تیار ہے ان کے سیکورٹی ڈیپازٹ بھی واپس کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ TP-III ماری میں 77ملین گیلن گندا پانی ٹریٹمنٹ کیا جارہا ہے، جس کا افتتاح 22 جولائی 2018ء کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیا تھا۔اس کی دیکھ بھال پر اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔منصوبے میں نئے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر اور بھاری مشینری کی تنصیبات فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث رک گیا ہے۔ اس ضمن میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نظام الدین شیخ نے حکومت سے فوری طور پر دو ارب روپے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وفاقی حکومت نے 3 ارب 99 کروڑ 10 لاکھ روپے میں اب تک تین ارب 12 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کیئے ہیں جبکہ بقایاجات 86 کروڑ 20 لاکھ روپے میں 51 کروڑ 76 لاکھ روپے ادائیگی کا خط بھی ارسال کردیا گیا ہے۔ماری پور ٹریٹمنٹ TP-III یہاں 77 ملین گیلن ٹریٹمنٹ کے باوجود 150 ملین گیلن کا نیا منصوبہ بھی مکمل نہ ہوسکا جبکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ TP-II محمود آباد کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ ختم نہ کرانے کی وجہ سے تعمیرات اور ٹریٹمنٹ کی بحالی کا کام مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ TP-I اور TP-III کے ساتھ ساتھ لیاری ندی پر 21 ارب31کروڑ 7لاکھ 97ہزار روپے کا مجموعی بجٹ مختص کیا گیا ہے،جن میں لیاری ندی میں 8 کنڈیوٹ پیکج میں شامل ہیں۔ اس کی لمبائی 33.32 کلومیٹر بھی زیر تکمیل ہوچکی ہے۔کراچی میں پانی کی فراہمی 650 ملین گیلن یومیہ ہے اور پانی کی فراہمی کا 70 فیصد سیوریج کے گندے پانی میں تبدیل ہوجاتا ہے یعنی 472 ملین گیلن یومیہ سیوریج کا گندا پانی سیوریج کے سسٹم کے ذریعے ندی نالوں میں بہہ رہا ہے۔ سیوریج کا نظام اور ٹریٹمنٹ کی گنجائش 150 ملین گیلن یومیہ تھی اور اب صرف 77 ملین گیلن گندا پانی ٹریٹمنٹ کیا جا رہا ہے وہ بھی ماری پور ٹریٹمنٹ پلانٹ تاحال فنڈز نہ ہونے پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔395 ملین گیلن سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں گرنے کے باعث اس کو آلودہ کررہا ہے۔اس وقت تین ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہیں اور سیوریج کے چھ پمپنگ اسٹیشن موجود ہیں، 32 لائٹ پمپنگ اسٹیشن سیوریج کا موجود ہے جبکہ سیوریج کا مجموعی طور پر 5670 کلومیٹر کا سسٹم یا نظام یہ گندا سیوریج کا آلودہ اور کیمیائی پانی کی چھوٹے بڑے نالوں اور ندی کے ذریعہ سپلائی جاری ہے۔محمودآباد ٹریٹمنٹ پلانٹ TP-I کا قیام 1964 میں عمل میں آیا تھا اس کی ٹریٹمنٹ کی گنجائش 20 ملین گیلن یومیہ تھی۔ یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ 1992ء میں بند ہوگیا اور اس کی 60 فیصد زمین 2009ء میں لائز ایریا کے متاثرین کو الاٹ کردی گئی جبکہ دیگر زمینوں پر چائنا کٹنگ کرکے آباد ہو چکا ہے۔ عدالت نے تجاوزات کے خلاف کئی حکم نامہ جاری کیئے تھے تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔سائٹ، نارتھ کراچی، فیڈریل بی ایریا،لانڈھی، کورنگی اور سائٹ ٹو سپرہائی وے چھ ٹریٹمنٹ پلانٹ میں 12ملین گیلن یومیہ 1590 ملین روپے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 35 انڈسٹریل زون میں ٹریٹمنٹ کے بغیر گندا پانی زیر زمین اور دریا کے ساتھ سمندر میں جارہا ہے جہاں سمندری حیات کے ساتھ ماحولیاتی اثرات بھی شدید متاثر ہورہے ہیں جس سے سمندری اجناس کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ایس تھری پروجیکٹ ستمبر 2007 کو پہلی پی سی ون 7982 ملین روپے منظور ی دی گئی۔ بعد ازاں چھ سال بعد 2013ء میں اس کی لاگت کا تخمینہ 17 ارب روپے لگایا گیا تھا جو تاخیر کی وجہ سے بڑھ کر 36 ارب 11 کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کی ترمیمی پی سی ون 6 مارچ 2018 کو منظوری کے بعد کام شروع کیا گیا جس میں 50 فیصد رقم وفاق اور 50 رقم صوبائی حکومت کو دینا تھی۔ منصوبے کے تحت TP-I ہارون آباد سائٹ اور TP-III ماری پور ہاکس بے کی تعمیراتی اخراجات میں لیاری ندی پر 21 ارب 31 کروڑ 7 لاکھ 97 ہزار روپے کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔لیاری ندی میں 8 کنڈیوٹ پیکج میں شامل ہیں اس کی لمبائی 33.32 کلومیٹر جبکہ پاک اوسس انڈسٹریز لمیٹیڈ اس کی کنٹریکٹرہے۔ سیوریج کی بحالی کے منصوبے پر ورلڈ بینک 14.80 ارب روپے کراچی کے مختلف علاقوں میں خرچ کرے گی جبکہ سندھ حکومت کراچی کے سیوریج کی بحالی پر 2.60 ارب روپے سالانہ ترقیاتی فنڈز سے خرچ کرے گی۔واضح رہے کہ سندھ حکومت کی نااہل، تعصب اور بدانتظامی کے باعث کراچی کی بیشتر صنعتیں بند ہو گئی ہیں جبکہ ٹریٹمنٹ کے بغیر سمندری اجناس کی برآمدات خطرے میں پڑ گئی ہے۔کراچی کے چھ صنعتی زون میں کمبائن انفرلیٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ(CETP) منصوبہ بند کردیا گیا۔ منصوبہ تاخیر کے باعث سو فیصد اضافہ کے ساتھ لاگت 34 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔اس سلسلے میں چھ کے بجائے آٹھ مقامات پر زمین کی بھی الاٹمنٹ کر دی گئی تھی اور اس سلسلے میں دیگر رکاوٹیں بھی دور کر دی گئی تھیں۔ منصوبے کے تحت 2017ء میں آغاز ہوکر 2019 تا 20ء میں تکمیل ہوجانا تھا لیکن اس منصوبے کا 2022ء میں بھی آغاز نہ ہوسکا۔منصوبے پر 67 فیصد سندھ حکومت کو اور 33 فیصد وفاقی حکومت کی وزرات کامرس اینڈ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ کو فنڈز ادا کرنے تھے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) مائی کلاچی روڈ، سولجر بازار، نہر خیام، ریلوے لائن نالے کے قریب ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔سندھ حکومت کراچی کے سیوریج سسٹم جو انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے اس کے باوجود اس منصوبہ پر عمل درآمد میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کرتی رہی جس کے باعث منصوبے کو بند کردیا گیا جو سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔ بیرون ملک برآمدات کو فروغ دینے کیلیئے ہر شعبہ جات میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ کراچی کے سیوریج کی ترقی اور بحالی پر صرف 70 ارب روپے خرچ ہوں گے جو کراچی سندھ حکومت کے بجٹ میں 90 فیصد دیتا ہے۔کراچی کے سیوریج کا بڑا منصوبہ ایس تھری کا ایک یونٹ TP-IV کورنگی کی تعمیرات اب پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے کی جائے گی(کیونکہ سندھ حکومت اب تک کراچی کے ہر منصوبے میں ناکام رہی ہے)۔ K-4 منصوبے کے 40 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ بھی سندھ کی پی پی پی یونٹ کررہی ہے،جبکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے،ایک حصہ کی یعنی ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 34 ارب روپے اور ملیر ندی میں کنڈیوٹ لائن کی تعمیرات کے دوسرے حصہ کی تعمیرات کا اندازہ 25 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ملیرندی پر 5 ٹریک سیور کنڈیوٹ کی پروجیکٹ میں 22.74 کلومیٹر لمبائی ہے۔ پروجیکٹ کے کنسلٹینٹ ٹیکنو انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹیڈ،فرم ایسوسی ایٹ ڈیلبو ایس ایٹکیمز انٹرنیشنل برطانیہ کی کمپنی سے منسلک ہے جبکہ این ای سی کنسلٹنٹ ہے۔اس بارے میں پروجیکٹ ایس تھری نظام الدین کہناہے کہ ان کی تقرری کے بعد بند منصوبے کو فعال اور سرگرمیاں تیز کردیا ہے TP-Iآور TP-IIIمیں کام جاری ہے فوری طورپر دو ارب روپے فنڈز جاری کا مطالبہ کیا ہے صوبائی حکومت کو خط ارسال کردیا ہے میں روزانہ کی بنیاد پر کام کی نگرانی کررہا ہوں اگر فنڈزجاری ہوئے تو تعمیر مکمل کرنے کا عندیہ ہے
Read Next
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
3 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
3 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
3 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
4 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
Related Articles
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
7 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
7 دن ago




