سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ یلو لائن بی آر ٹی کے کام کی رفتار تسلی بخش ہے اور دو بڑے کمپوننٹس پر تیزی سے کام جاری ہے، جن میں ڈپوز کی تعمیر اور سابقہ جام صادق برج کا نیا اسٹرکچر شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہو تاکہ کراچی کے شہریوں کو جدید اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آ سکے۔

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے جام صادق پل پر یلو لائن بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی ترجیح ہے کہ شہر کی تمام بی آر ٹی لائنز بشمول گرین لائن، اورنج لائن، ریڈ لائن اور یلو لائن کو آپس میں منسلک کیا جائے، جس سے کراچی میں ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی اور شہریوں کو پولوشن فری سفری سہولت فراہم ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ یلو لائن اور دیگر بی آر ٹی منصوبوں میں *الیکٹرک بسیں (EV buses)* متعارف کرائی جا رہی ہیں، جو ماحول دوست ہیں۔ریڈ لائن بی آر ٹی کے حوالے سے سوال پر شرجیل میمن نے کہا کہ وہاں کچھ چیلنجز ضرور تھے لیکن اب تعمیراتی کام کی رفتار دوبارہ تیز کر دی گئی ہے اور پیشرفت اطمینان بخش ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اگست کے مہینے میں کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں اور پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹیکسی سروس (EV Taxi)شروع کرنے جا رہی ہے۔مزید برآں خواتین کے لیے خصوصی طور پر *پنک ای وی اسکوٹرز* مفت فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں محفوظ اور آسان ٹرانسپورٹ کی سہولت مل سکے۔شرجیل میمن نے کہا کہ یہ سب اقدامات سندھ حکومت کے ویژن کا حصہ ہیں تاکہ کراچی میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے اور جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔






