وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نےپولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا ۔ وزیراعلٰی نے پولیس لائنز میں منعقد پولیس دربار میں شرکت اور خطاب کیا۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کو عزت دیتی ہیں وہ دفاعی طور پر ناقابل شکست ہوتی ہیں. جب تک شہداء اور انکے خاندانوں کو عزت نہیں بخشیں گے پولیس کے جوانوں میں قربانی کا جذبہ نہیں پیدا ہوگا. شہداء کے اہل خانہ کسی بھی سرکاری دفتر میں جائیں گے،تو کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا جائے گا. وزیراعلیٰ کے دفتر میں بھی شہداء کے اہل خانہ کا کھڑے ہوکر استقبال کیا جائے گا،

پولیس شہداء نے ہمارے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے. پولیس کے پاس وسائل کی کمی کو پہلی ترجیح میں پورا کر رہے ہیں، جب پہلے مجھے پولیس دربار میں شرکت کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا جب پولیس کے لیے کچھ کرلوں گا تب شرکت کروں گا، گذشتہ ایک سال کے دوران پولیس کی ضروریات پوری کرنے پر کافی کام کیا مزید بھی کریں گے، پولیس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل کی کمی کو کھبی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا. ہم نے پولیس فورس کا بجٹ رواں سال 124 ارب روپے سے بڑھا کر 158 ارب کر دیا ہے، پولیس کی تنخواہ میں اضافہ ان کا اپنا حق تھا ، ہم نے کے پی پولیس کی تنخواہوں کو بڑھا کر دیگر صوبوں کے برابر کر دیا ہے. شہداء کے بچوں کے لیے بطور اے ایس آئی بھرتی کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا ہے، نئے کوٹہ کے تحت 280 شہداء کے ورثاء کو بھرتی بھی کر لیا گیا ہے.
پولیس میں ترقیوں کے عمل کو تیز کردیا گیا ہے، شہداء کے ورثاء کے لیے مفت پلاٹوں کا جو اعلان کیا تھا، رواں سال سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹیز میں انہیں پلاٹ دیئے جائیں گے.عوام و پولیس کے جان و مال کے تحفظ کے لیے خزانہ حاضر ہے. پولیس فورس کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے، پہلی فرصت میں ہم نے جدید آلات و اسلحہ فراہم کر دیئے ہیں. پولیس افسران و اہلکار کسی کی بھی سفارش نہ مانیں ، میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کو انصاف فراہم کریں.میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ پولیس میں ایک بھی سفارش نہیں کی، جب وزیر اعلیٰ سفارش نہیں کرتا تو کسی کی بھی سفارش کو نہ مانا جائے اور میرٹ پر کام کیا جائے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی کمزور انصاف سے محروم اور ظالم سزا سے بچ نہ سکے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ پولیس فورس کو اس سلسلے میں بھرپور سپورٹ فراہم کروں گا. ٹریفک پولیس اہلکار چھوٹی موٹی خلاف ورزیوں پر غریب محنت کشوں کو چالان کم اور وارننگ زیادہ دیں. یہ لوگ بڑی مشکل سے اپنے بچوں کے لئے رزق کماتے ہیں، زیادہ چالان بھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بڑی گاڑیوں والے طاقتور لوگوں کو زیادہ چالان دیں. امن و امان کی بہتری ہماری اولین ترجیح ہے، امن ہوگا تو ترقی ہوگی، امن و امان کی بہتری کے لیے جتنے وسائل درکار ہونگے پولیس کو پہلی فرصت میں ملیں گے.






