*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے این ای ڈی یونیورسٹی میں نئی عمارتوں کا افتتاح کر دیا، ہونہار طلبہ میں کروم بکس تقسیم*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این ای ڈی یونیورسٹی میں نئی تعمیر شدہ عمارتوں کی افتتاحی تقریب اور پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام (پی آئی ٹی پی) کے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں کروم بکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی اعلیٰ تعلیم، ڈیجیٹل بااختیاری اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔یہ تقریب این ای ڈی یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جس میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، سی آئی ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر سروش لودھی، آئی ٹی کے چیئرمین نور احمد سموں، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، مہران یونیورسٹی، سکھر آئی بی اے اور این ای ڈی کے وائس چانسلرز، سینئر فیکلٹی، پی آئی ٹی پی ٹیموں اور طلبہ نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے فخریہ اعلان کیا کہ سندھ نے موجودہ مالی سال میں سرکاری شعبے کی جامعات کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے ہیں جو تمام صوبوں میں سب سے زیادہ ہیں تاکہ ان جامعات کی عملی ضروریات، تحقیق، انفراسٹرکچر اور جدت کی حمایت کی جا سکے۔وزیراعلیٰ نے این ای ڈی یونیورسٹی میں دو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا افتتاح بھی کیا جن میں جدید تجربہ گاہوں سے لیس فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی نئی عمارت شامل ہے جس پر 96.48 ملین روپے کی لاگت آئی ہے۔ 112 طلبہ کے لیے رہائش کی گنجائش والی انٹرنیشنل بوائز ہاسٹل کا بھی افتتاح کیا گیا۔ ہاسٹل کو 67.11 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا۔اس کے علاوہ 98.52 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ 52 طالبات کے لیے مخصوص گرلز ہاسٹل بلاک کو انجینئرنگ اور ٹیکنیکل تعلیم میں صنفی شمولیت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر تسلیم کیا گیا۔*پی آئی ٹی پی: ڈیجیٹل شمولیت کے لیے ایک مثالی ماڈل*

وزیراعلیٰ نے پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام ( پی آئی ٹی پی) کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام این ای ڈی یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور سکھر آئی بی اے کے تعاون سے شروع کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پی آئی ٹی پی 1 کے تحت تربیت حاصل کرنے والے 13,565 طلبہ نے مقررہ اہداف سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔ ان میں سے 4,353 گریجویٹس نے ملازمت حاصل کی جس سے صوبے کی معیشت کو 49 ملین روپے کی براہ راست آمدنی ہوئی۔مراد علی شاہ نے خواتین کی نمایاں شراکت داری کو سراہا، سکھر آئی بی اے میں 40 فیصد، این ای ڈی میں 36 فیصد اور مہران یونیوسٹی میں 33.6 فیصد طالبات نے حصہ لیا جبکہ مہران یونیوسٹی کے 62 فیصد طلبہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس پروگرام کی شمولیتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔

*کروم بک ایوارڈز*

وزیراعلیٰ نے پی آئی ٹی پی کے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی طریقہ کار کے تحت 300 گوگل کروم بکس/لیپ ٹاپس تقسیم کیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور ہر ادارے کے لیے مخصوص معیار کے مطابق تھا

*معیار*

این ای ڈی یونیورسٹی میں تعلیمی کارکردگی (50 فیصد)، پراجیکٹ پر عملدرآمد (40 فیصد)، اور ملازمت کے لیے تیاری (10 فیصد) – پہلے تین بیچز سے 84 طلبہ منتخب ہوئے، مزید 16 منتخب کیے جائیں گے۔مہران یونیوسٹی مٰں تعلیمی کارکردگی (70 فیصد)، حاضری (20 فیصد) اور ملازمت کے لیے تیاری (10 فیصد) – 74 طلبہ منتخب؛ 26 زیر التوا۔

سکھر آئی بی اے میں حاضری (70 فیصد)، امتحانی نمبر (20 فیصد) اور فری لانسنگ/آن لائن آمدنی (10 فیصد) – 86 طلبہ منتخب؛ 14 باقی ہیں۔کروم بک حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے تربیت اپریل 2025 میں گوگل کے پاکستان میں شراکت دار ٹیک ویلی کے ذریعے کرائی جائے گی جس کے بعد مئی 2025 میں ایوارڈ کی تقاریب منعقد ہوں گی جہاں وزیراعلیٰ یا متعلقہ وزیر سرٹیفکیٹس اور کروم بکس تقسیم کریں گے۔

*پی آئی ٹی پی 2*

تربیتی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے باضابطہ طور پر پی آئی ٹی پی 2 کا اعلان کیا جس کے لیے 1.4 ارب روپے کا توسیعی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس توسیعی مرحلے کا مقصد زیادہ مانگ والے 12 آئی ٹی شعبہ جات میں 35,000 طلبہ کو تربیت دینا ہے جن میں میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور گریجویٹ سطح کے طلبہ شامل ہوں گے (عمر کی حد 28 سال)۔ اس مرحلے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 5 فیصد طلبہ کو 1,750 کروم بکس دیے جائیں گے۔

*یہ مرحلہ 40 فیصد روزگار کی شرح پیدا کرنے کا تخمینہ رکھتا ہے جو پانچ سال میں 5.04 ارب روپے کے معاشی فوائد پیدا کرے گا یعنی سرمایہ کاری پر 3.6 گنا منافع۔*

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وائس چانسلرز ڈاکٹر سروش لودھی، ڈاکٹر محمد طفیل، ڈاکٹر طاہر حسین علی اور ڈاکٹر آصف شیخ کی قیادت کو سراہا، ساتھ ہی پی آئی ٹی پی کے فوکل پرسنز اور ٹیک ویلی کے سی ای او عمر فاروق کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے سائنس اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے نور احمد سموں، ڈاکٹر شاہزیب ملک اور اطہر بلوچ کی انتھک کاوشوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف طلبہ کو تربیت نہیں دے رہے بلکہ ہم ایک نالج اکانومی تشکیل دے رہے ہیں اور سماجی ترقی کو ممکن بنا رہے ہیں۔ پی آئی ٹی پی ایک روشن مثال ہے کہ جب سرکاری جامعات پر اعتماد کیا جائے اور انہیں بااختیار بنایا جائے تو وہ کیا کچھ حاصل کر سکتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے ایک شمولیتی، ڈیجیٹلی بااختیار اور معاشی طور پر مضبوط سندھ کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ کوئی بھی طالبعلم پیچھے نہیں رہے گا اور کوئی خواب اتنا بڑا نہیں کہ پورا نہ ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button