ہم سب کو شجر کاری مہم کو تیز کر کے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئے،شوکت کیانی سرپرست اعلٰی لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز) جنگلات اور درختوں کی کٹائی سے گریز کرنا چاہئے اور بالن کے لئے سوئی گیس، گوبر گیس اور دوسرے ذرائع استعمال میں لانے چاہئے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی سے احتیاط کرنی چاہیے اور نئے درختوں، پودوں کے لگانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے کر بھر پور شجر کاری مہم چلائی جائے۔کیونکہ61 سال بعد گرم ترین موسم کچھ دنوں میں ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں.پاکستان دنیا کےان 10 ملکوں میں سر فہرست ہے جن کا موسم تیزی سے تبدیل ہو رہا.پچھلے 12 سالوں میں پاکستان کا ٹمپریچر 4 ڈگری بڑھ گیا ہے جو پچھلے 50 سالوں میں 3 فیصد بڑھا تھا.اسکا واحد حل گرین اکانومی کی طرف تیزی سے بڑھنا اور شجر کاری مہم کو تیز کرتے ھوئے درخت اور پودے زیادہ سے زیادہ تعداد میں لگانا چاھئے ۔اپنے گھر کے ہر خالی حصہ میں، اپنی گلی میں، اپنے محلہ میں، اپنی کالونی میں سڑک کے کنارے جہاں جگہ ملے وہاں درخت اور پودے لگائیں جائیں۔ان خیالات کا اظہار لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی نے پاکستان کی عوام الناس پر زور دیتے دیتے ھوئے کیا ھے اور کہا ہے کہ ھم سب کو شجر کاری مہم کو تیز کر کے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاھئے ۔کوشش کریں کہ درخت اور پودے پھل دار ہوں تا کہ آکسیجن کے ساتھ ساتھ انسانی خوراک میں بھی اضافہ کا باعث بنیں نیز باغات، پارکس ، پہاڑی علاقوں، سڑکوں کے کنارے، گلیوں میں درختوں اور پودوں کو لگانا اور انکی آبیاری کرنا ھمیں اپنا فریضہ سمجھنا چاہیے تا کہ گرین اکانومی کی وجہ سے انسانی زندگیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔اس وقت انسانی زندگی کی بقاء صرف اور صرف درخت اور پودے لگانے میں ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کے لئے آکسیجن کا بنیادی جزو درختوں سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر ہم آج بھی درخت اور پودے کی اہمیت نہ سمجھیں گے تو اب اگلی نسل کی بات نہیں بلکہ اگلے سال ہی ہم سب کو اس سے زیادہ گرم موسم کا سامنا کرنا پڑے گا ۔گلوبل وارمنگ کا تقاضا کہ درختوں کا زیادہ سے زیادہ لگانے میں پنہاں ھے۔اور ھمیں سولر انرجی کو بھی ترجیح دینی ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button