ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کے زیر صدارت اجلاس، مجوزہ تجارتی و معاشی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ

ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کے زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کو مالی طور پر مستحکم، اور خود کفیل بنانے اور آمدن میں اضافہ کے لیے مجوزہ تجارتی و معاشی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں چیف انجینئر حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید، کنٹرولر بلڈنگ فیصل خٹک، ڈائریکٹر لینڈ شے منصور،ڈائریکٹر ماحولیات رسول بخش، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ عبدالرزاق سمیت دیگر متعلقہ افسران شامل تھے۔ تمام افسران نے اپنے شعبوں سے متعلق جاری اور مجوزہ منافع بخش منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جی ڈی اے کو ایک مالی طور پر مستحکم اور خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے جدید، منافع بخش اور دیرپا منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور جی ڈی اے 500 ایکڑ ہاوسنگ اسکیم جیسے اہم منصوبوں کو جلد لانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور جوائنٹ وینچر ماڈلز کے تحت متنوع منصوبوں پر بھی غور کیا گیا جن میں جدید ویئرہاوسز، لاجسٹک سنٹرز، کاروباری و رہائشی، منصوبے، سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے واٹر اسپورٹس بیچ، ریزورٹس، کوہ مہدی پر ہل اسٹیشن، طرز کی تفریح گاہ، فیملی، پارکس و ریسٹورنٹس، امیوزمنٹ پارک، اور دیگر مجوزہ منصوبے شامل ہیں۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ یہ تمام اقدامات نہ صرف گوادر کی معاشی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ جی ڈی اے کو بھی اپنی مالی ضروریات خود پورا کرنے کے قابل بنائیں گے، تاکہ ادارہ بیرونی وسائل پر انحصار کیے بغیر اپنی ضروریات پورا کرسکے۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان نے پانی کی فراہمی کے نظام پر علیحدہ اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں موجودہ صورتحال، اخراجات اور مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف انجینئر حاجی سید محمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد اکبر اور اسسٹنٹ انجینئر قمبر بلوچ نے شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جی ڈی اے روزانہ تقریباً 33 لاکھ گیلن پانی گوادر اور ملحقہ علاقوں کو فراہم کر رہا ہے، جن میں کپر اور اسکے ساتھ 35 دیہاتوں، جیڈا انڈسٹریل زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، گوادر کینٹ بھی شامل ہیں۔ پانی کے موجود صورتحال کے پیش نظر انکے حصہ کی 50 فیصد پانی سپلائی کم کردی گئی ہے۔ جبکہ گوادر میں سربندر، ایئرپورٹ واٹر اسٹیشن، ہلیری پمپنگ اسٹیشن اور جیوانی واٹر اسٹوریج بھی شامل ہیںروزانہ کی بنیاد پر اس فراہمی پر 8 لاکھ 27 ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ بتایا گیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ اور نیوٹاون اسکیم واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کر رہے، جبکہ گوادر ایئرپورٹ، کینٹ اور انڈسٹریل زون ادائیگی میں باقاعدگی سے تعاون کر رہے ہیں۔مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کہیں پانی کی فراہمی میں تعطل آتا ہے تو اس کی بنیادی وجوہات میں ڈسٹری بیوشن لائنز کی خرابی، بجلی کی طویل بندش، وولٹیج کا اتار چڑھاو¿ یا مقامی سطح پر انتظامی رکاوٹ شامل ہیں، جنہیں جی ڈی اے اور محکمہ پبلک ہیلتھ مل کر ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہیںاس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر کی ترقی، شفاف گورننس اور مالی خود مختاری ہمارا ہدف ہے، ادارے کی ترجیح ہے کہ گوادر کو ایک اسمارٹ، جدید اور خود کفیل بندرگاہی شہر کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جی ڈی اے ایک فعال، خود مختار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی ساکھ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھاتا رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button