*کراچی،بلاول بھٹو زرداری نے یومیہ 100 ملین گیلن صاف پانی فراہم کرنے والی نئی حب کینال کا افتتاح کر دیا*

نیو حب کینال 21.8 کلومیٹر طویل ہے جو کراچی کو 100 ایم جی ڈی پانی مہیا کرے گا۔افتتاح کی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھڑو، اسپیکر سندھ اسیمبلی اویس قادر شاہ، سابق اسپیکر آغا سراج درانی، صوبائی وزرا – شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی، سید سردار شاہ، حاجی علی حسن زرداری ، ذوالفقار شاہ، شاہد تھیم، ایم پی ایز، ایم اینیز ، میئر کراچی مرتظیٰ وہاب، سی ای او واٹر بورڈ احمد صدیقی، سی او او واٹر بورڈ اسداللہٰ٘ ، اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

21.8کلومیٹر کنوینس سسٹم کینال میں 11 ایکواڈکٹس، 19 کلورٹس اور 4 برج ہیں۔حب کینال پروجیکٹ Rs12 billion سے زیادہ کا ہے جس سے ضلع ویسٹ اور کیاماڑی کے رہائشیوں کو پانی ملیگا۔نیو حب کینال 130 ایم جی ڈی پانی مہیا کرنے کی صلاحیت capacity رکھتا ہے؛ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ

مودی سرکار کا سندھ طاس معاہدہ توڑنے اور پاکستان کا پانی روکنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ کراچی والے اپنے سندھو کا دفاع کرنا جانتے ہیں — اگر عالمی قوانین کے تحت بھارت نے سندھ طاس معاہدہ نہیں مانا تو ہم انشاء ﷲ یہ چھ کے چھ دریا اپنی عوام تک پہنچائیں گے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ “میں نے پچھلے بلدیاتی انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد کی عوام سے کہا تھا کہ اگر آپ نے ہمیں ان شہروں کا مئیر جیالہ منتخب کرنے کا موقع دیا تو ہم کراچی اور حیدرآباد کی بہتری کیلئے زیادہ موثر انداز میں کام کرسکیں گے، آپ نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے جیالوں کو میئربنایا اب صوبائی اور بلدیاتی نظام ملکر کام کررہے ہیں جس کا پھل کراچی اور حیدرآباد کی عوام کو مل رہا ہے۔”

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ فیز ٹو:

حب کینال پراجیکٹ کے تحت پرانے کینال کی بحالی کا کام جاری ہے۔نئے کینال کے ذریعے شہر کوپانی فراہم کیا جارہا ہے۔پرانے کینال کا 21.8 کلومیٹر حصہ بند کرکے کام کو تیز کیا جارہا ہے۔دسمبر 2025 تک پرانا کینال بھی مکمل بحال ہوجائے گا۔منگھوپیر پمپنگ اسٹیشن کی 150 ایم جی ڈی کی صلاحیت کو بحال کیا جائے۔فلٹریشن پلانٹ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ 260 ایم جی ڈی کنوینس سسٹم کی دستیابی کوٹہ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔نیو اور پرانی حب کینال کی بحالی سے 200 ایم جی ڈی پانی کراچی کو ملے گا۔اضافی پانی کو ایمرجنسی یا ضرورت کے تحت استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button