غذر کے علاقے میں آنے والے اچانک اور شدید سیلاب کے نتیجے میں مقامی آبادی کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث متعدد مکانات، زرعی اراضی، فصلیں اور درخت بہہ گئے جبکہ آبپاشی اور پانی کی فراہمی کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ چلم روڈ کا تقریباً 250 میٹر حصہ بڑے پتھروں اور ملبے سے بند ہو گیا جس سے آمد و رفت معطل ہو گئی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے بروقت اور فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ اس دوران مٹی اور ملبے میں دبے 7 افراد میں سے 4 کی لاشیں نکال لی گئیں، ایک بچے کو زندہ حالت میں ملبے کے نیچے سے نکالا گیا، جبکہ 2 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔امدادی سرگرمیوں میں لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرہ خاندانوں کو راشن اور طبی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں سے ملبہ ہٹا کر آمد و رفت کی بحالی، اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شامل ہے۔ صفائی اور بحالی کے لیے جی بی ڈی ایم اے ایکسکیویٹر، سی اینڈ ڈبلیو کا بلیڈ ٹریکٹر اور ایک پرائیویٹ ہیوی ایکسکیویٹر متاثرہ مقام پر پہنچا دیے گئے ہیں۔اگرچہ خراب موسم امدادی کاموں میں مشکلات پیدا کر رہا ہے، مگر افواج پاکستان ہمیشہ کی طرح مقامی آبادی کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے۔ موسم کی سختیاں اور دشوار گزار حالات بھی ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، اور پاک فوج پوری صلاحیت کے ساتھ متاثرہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔






