*وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے یو این کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات*

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے یو این کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات، وفد میں یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ، یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس کی سربراہ افکے بوٹسمین اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار کوارڈینیشن اف ہیومینیٹیرین افیئرز کے سربراہ کارلوس گیہا شامل تھے۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار کو مزید وسعت دینے اور سیلاب متاثرین کی بحالی میں باہمی تعاون اور اشتراک پر اتفاق کیا گیا ۔

وفد نے وزیراعلیٰ سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت و دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع حالیہ سیلابوں اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان سیلابوں سے 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سیلابوں سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، سیلابوں سے سکولز، بنیادی مراکز صحت ، روڈز انفراسٹرکچر اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کیا، اسی طرح مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کا معاوضہ 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کیا۔پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے 5 لاکھ روپے مقرر کیا گیا جبکہ جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھا ان کی صفائی کیلئے 1 لاکھ روپے مقرر کیا گیا، صوبائی حکومت نے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاوضوں کی ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی، ایسے کمسن بچے جن کا کوئی نہیں بچا، ایسے بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاؤنٹس کھولے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی و ریلیف اور ادائیگیوں میں 100 فیصد شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے، متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی، ان علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ میں نے خود بھی بونیر، سوات اور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا، ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں۔اب سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر ، ابنوشی انفراسٹرکچر، متاثرہ بنیادی مراکز صحت کی بحالی کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جن جن علاقوں میں پینے کے پانی کا نظام متاثر ہوا ہے وہاں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم سیلاب کے خطرات سے مستقل دو چار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ آئندہ اس طرح کےحادثات سےبچایا جاسکے۔ فوری اور عارضی اقدامات کے علاؤہ صوبائی حکومت مستقبل میں سیلابوں سے بچنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، ہم کلاؤڈ برسٹ سے متاثرہ اضلاع میں پہاڑوں پر جال لگانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں تاکہ سیلاب سے نقصانات کم سے کم ہوں، اس کے علاؤہ فیزیبل مقامات پر مزید چھوٹے اور چیک ڈیمز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ آبی گزرگاہوں میں سیلاب سے آنے والا ملبہ اور ریت کو ہٹانے کے لیے علیحدہ سے منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔وفد کے مطابق اقوام متحدہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں لوگوں کی بحالی کے لیے بھر پور تعاون فراہم کرے گی، خیبر پختونخوا میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس ہوا، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے علاؤہ دیگر پسماندہ اضلاع میں بھی تعاون فراہم کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button