وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بارش میں پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس پہنچ گئیں، کنٹرول روم کا دورہ،ڈپٹی کمشنرز سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف برستی بارش میں پی ڈی ایم اے ہیڈ ا ٓفس پہنچ گئیں -وزیراعلٰی مریم نوازشریف نے کنٹرول روم کا دورہ کیا،پنجاب بھر میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیاگیا-وزیراعلی مریم نوازشریف نے ویڈیولنک پر تمام ڈپٹی کمشنرز سے بریفنگ لی -وزیراعلی مریم نوازشریف کو سیلاب کی موجودہ اورآئندہ ممکنہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا-دریائے راوی کے سائفن، شاہدرہ، بلوکی اور سدھنائی پر پانی کی صورتحال بتائی گئی -دریائے چناب کے مرالہ، خانکی، قادرآباد، تریموں اور پنجند پر واٹر لیول کا جائزہ لیاگیا-کوٹ مٹھن اور دریائے ستلج کے گنڈا والا سنگھ اور اسلام بیراج کے بارے میں بتایا گیا -پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریسکیو آپریشن کی کامیابی پر وزیراعلی مریم نوازشریف نے اطمینان کااظہار کیا-پنجاب بھر میں سیلاب کے پیش نظر سوا6لاکھ افراد کا بروقت انخلا ممکن بنایا گیا-سیلابی ریلے میں گھرے 5لاکھ97ہزار افراد کو ریسکیو اور ٹرانسپورٹ کیاگیا-2ستمبر تک مزید بارشوں کا امکان ہے، بھارتی علاقوں سے بھی پانی چھوڑا جا سکتا ہے -کوہ سلیمان کی 13رود کوہیوں میں بارش کے پیش نظر طغیانی کاامکان ہے-لاہور کے مختلف نشیبی علاقو ں میں ڈی واٹرنگ مشینیں لگا کر پانی کا جلد نکاس یقینی بنایا جا رہاہے -لاہور کے مضافاتی ریلیف کیمپوں میں 3500لوگوں کو کھانا مہیا کیا جا رہاہے -قادر آباد ریواز بریج میں شگاف کے ذریعے آبادیوں کو بچایا گیا -لاہور کی آبادیاں موجودہ صورتحال میں سیلاب کے خطرے سے باہر ہیں -حافظ آباد میں سیلاب سے 120گاؤں متاثر ہوئے جبکہ 3700افراد کو منتقل کیاگیا -چنیوٹ میں 146 موضع متاثر ہوئے، ایک لاکھ آبادی کاانخلابروقت ممکن ہوا، 1200لوگوں کو ریسکیو کیاگیا -چنیوٹ کے 12ریلیف کیمپوں میں 350متاثرین مقیم ہیں اور 3ہزارافراد کو خشک راشن دیاجا رہاہے -منڈی بہاؤالدین کے 7گاؤں سے پانی کی نکاسی کا عمل تیزی سے جاری ہے -جھنگ میں 411گاؤں متاثر ہوئے، 2لاکھ 70ہزار آبادی کا انخلاء مکمل کیاگیا-جھنگ کے18کیمپوں میں 755لوگ مقیم ہیں،10ہزار لوگوں کو کھانا بھی دیا جارہاہے -اوکاڑہ کے35گاؤں متاثر ہوئے، 9ہزار لوگوں کو ریسکیو کیا گیا، 700لوگ کیمپوں میں مقیم ہیں -پاکپتن کے 12گاؤں متاثر ہوئے، ریلیف کیمپوں میں 500لوگوں کو کھانا پہنچایا جا رہاہے -ساہیوال میں 30گاؤں متاثر ہوئے، 2ہزار آبادی کابروقت انخلاممکن بنایا گیا، 2700مویشی بچا لئے گئے -سرگودھا کے 20گاؤں متاثرہوئے، 65ہزار آبادی کا انخلاممکن بنایاگیا، 3ہزار لوگوں کوریسکیو کیاگیا-41متاثرہ گاؤں میں صبح، دوپہر، شام کھانا پہنچایا جا رہاہے -ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 52گاؤں سیلاب سے متاثرہوئے، 62ہزار آبادی کا ا نخلابروقت ممکن بنایا-ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 53ہزار مویشی محفوظ مقامات منتقل کئے گئے، 8ریلیف کیمپوں میں 222افراد کو صبح، دو پہر، شام کھانا دیا جارہاہے -بہاولنگر کے124گاؤں متاثر ہوئے،90ہزار آبادی کا انخلاہوا، 3ہزار لوگوں کو ریسکیو کیاگیا -حافظ آباد میں 40ہزار آبادی کوریسکیواور 39ہزار مویشیو ں کوبچا لیا گیا- وہاڑی میں 3500افراد کو ریسکیو کیاگیااور 10ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کئے گئے-وہاڑی میں سیلاب زدگان کی نشاندہی کے لئے ڈرون کے استعمال کو وزیراعلی مریم نوازشریف نے سراہا -قصور میں 125گاؤں متاثر ہوئے، 25ہزار آبادی کا انخلا ممکن ہوا- انڈیاکی طرف سے بند ٹوٹنے پر 35ہزار آبادی کا راتوں رات انخلا یقینی بنایا گیا -قصور کے ریلیف کیمپوں میں 639افراد مقیم ہیں،ملتان کے 138دیہات سے 2لاکھ58ہزار افراد کو ریسکیو کیاگیا،2700 لوگ کیمپوں میں مقیم ہیں – شیخوپورہ میں 4ہزار آبادی کا انخلا ہوا جبکہ 1400آبادی کو ریسکیو کیاگیا،11ریلیف کیمپوں میں 700لوگ مقیم ہیں – اجلاس میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہاہے کہ ارکان اسمبلی سیلاب ریسکیو و ریلیف آپریشن کے دوران عوام کے درمیان موجود رہیں، پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں ڈپٹی کمشنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی مریم نوازشریف نے پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف اور ریسکیو آپریشن کی کامیابی پرپوری ٹیم کو مبارکباد دی اور کہاکہ ثابت ہوا پنجاب میں مختلف ڈیپارٹمنٹ نہیں بلکہ ایک ٹیم ہے-کئی دہائیوں بعد سیلاب کی ا تنی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا-مسلسل بارشوں او رانڈیا کی طرف سے پانی چھوڑنے پر طغیانی آئی -وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ آبادی کا بروقت انخلا یقینی بنانے پر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتی ہوں -تمام ادارے دن رات کام کررہے ہیں -پنجاب بھر میں نہ صرف انسانی جانیں بچائی گئیں بلکہ ساڑھے 4لاکھ مویشیوں کو بھی سیلاب سے بچا لیاگیا -سیلاب کے دوران پوری ٹیم کی کارکردگی قابل تحسین ہے -جہاں پانی آنے کا خطرہ موجود ہے ان اضلاع میں پیشگی اقدامات ضروری ہیں -سیلاب کے دوران لوگوں کے لئے گھر چھوڑنا مشکل ہوتا ہے لیکن جان بچانے کے لئے زبردستی انخلا بھی کرنا پڑے تو کریں -گائے، بھینسوں کو منتقل کرنے کے لئے کشتیوں کی بجائے بیڑے کا انتظام کیا جائے -بروقت انخلا کی وجہ سے بد ترین سیلاب کے باوجود نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں -ریلیف آپریشن اچھا چل رہاہے -وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ یہ پنجاب ہے یہاں چیف منسٹر عوا م کو جوابدہ ہیں -عوام مدد کے منتظر نہ رہیں، بلکہ حکومت کو خود پہنچنا چاہیے-ٹینٹ ویلج بنائے جائیں،ٹوائلٹ کا بھی انتظام کیاجائے -جہاں تک ممکن ہو سکولوں کی عمارتوں کو استعمال میں لایا جائے -مرد او رخواتین کے لئے الگ الگ عمارتوں کا بندوبست کیا جائے -وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ ریلیف آپریشن پر مزید بہتری کی ضرورت ہے -ہم سب جوابدہ ہیں، سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے -لوگوں سے محبت سے پیش آنا چاہیے، سخت رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے-لوگ ہمیں فون کر کے نہ بلائیں، ہمیں خودلوگوں تک پہنچنا چاہیے-انتظامیہ کو بہتر فیلڈ فارمیشن سے عوام کی ضروریات سے آگاہ ہونا چاہیے -تحصیلدار، پیرا فورس، سول ڈیفنس، وائلڈ لائف، انوائر منٹ فورس بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں -ہر گاؤں کی ہر گلی اور ہر وارڈ تک حکومت کی رسائی اور ا مداد پہنچنی چاہیے- وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ حکومت کو ضرورت مند تک خود پہنچنا چاہیے-محنت کریں، عوام کی خدمت کریں اور نیک نامی کمائیں -ریلیف اورریسکیو آپریشن کے لئے فنڈز مہیا کئے جائیں – جہاں بھی مویشیوں کے چارے کی کمی ہے،پورا کیاجائے -پانی اترنے کے بعد عوامی رابطے بحال کئے جائیں -ڈی واٹرنگ کے لئے پمپس وغیر ہ لگائے جائیں -وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ کرتار پور گرد وارہ میں کئی کئی فٹ پانی کی نکاسی اور صفائی پر ڈی سی نارووال کی ستائش قابل تحسین ہے -گرد وارہ جنم استھا ن کی بحالی پر دنیا بھر سے سکھ برادری سے شکریہ کے پیغامات مل رہے ہیں -پوری توجہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر رکھیں -بروقت بند توڑ کر آبادیوں کو بچانا قابل تحسین ہے- پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کرتی ہوں، پاک آرمی کے جوانوں نے ہماری پوری مدد کی -میری بہت سے دعائیں پاکستان آرمی کے ساتھ ہیں، اللہ تعالی ان کو سلامت رکھے-پنجاب کے 22 اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کام کررہے ہیں -تینوں دریاؤں کے کنارے آباد شہروں کی ڈرون فوٹیج مہیا کی جائے -عوام کو خشک راشن مہیا کریں -کمزور او ربوسیدہ عمارتوں سے بارشوں کے دوران آبادی کاانخلا یقینی بنایا جائے -سیلاب میں بہنے والے جانوروں کو اصل مالکان تک پہنچایا جائے -گمشدہ اور باز یاب ہونے والے مویشیو ں کے لئے خصوصی طورپر سیل بنایا جائے-پولیس کے افسر او رجوان خود بچوں کو اٹھا اٹھا کر لاتے رہے، شاباش دیتی ہوں -ریسکیورز نے تندہی کے ساتھ بہتے ہوئے جانوروں کو ریسکیو کیا -سیلاب کی وجہ سے جہاں آبادی کا انخلا ہوا پولیس وہاں گھر وں کی حفاظت یقینی بنائے –

جواب دیں

Back to top button