کمپنی کیڈر ملازمین کو وہی حقوق دیے جائیں جو سرکاری اداروں کے دیگر ملازمین کو حاصل ہیں،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز) خیبرپختونخوا کے ڈویژنل ہیڈ کواٹرز میں قائم واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنیز کے کمپنی کیڈرز ملازمین کو درپیش مسائل پر فوری غور کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ایک درخواست میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا،سیکرٹری محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا،سیکرٹری محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا،چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز (WSSکمپنی ایکٹ کے تحت بھرتی شدہ ملازمین کو نئی حکومتی پنشن پالیسی میں شامل کرنے کے بارے میں درپیش مسائل پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ہے ۔جس کا مکمل متن ہے۔مؤدبانہ گزارش ہے کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (WSSP) ایک پبلک سیکٹر کمپنی ہے جو صوبائی حکومت اور لوکل کونسل بورڈ کے زیر سایہ قائم کی گئی ہے۔ اس کا مالک بھی حکومت خیبر پختونخوا ہے اور اس کی تمام فنڈنگ بھی سرکاری خزانے سے فراہم کی جاتی ہے۔ابتدائی طور پر کمپنی نے TMA سے آئے ہوئے ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر لیا، لیکن بعد ازاں ضرورت کے تحت کمپنی ایکٹ 2017 کے تحت براہِ راست بھرتیاں بھی کی گئیں۔ یہ کمپنی کیڈر کے ملازمین گزشتہ دس سالوں سے اپنی انتھک محنت اور خدمات کے باوجود سرکاری ملازمین کو حاصل بنیادی مراعات اور پنشن سے محروم ہیں اور صرف EOBI تک محدود کر دیے گئے ہیں، جو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی ملازم اور اس کے خاندان کے لیے نہایت ناکافی ہے۔

مزید برآں، لوکل کونسل بورڈ آرڈر 2016 کے تحت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر کمپنی ختم ہو جائے تو کمپنی کیڈر ملازمین کو ٹی ایم اے کے مستقل ملازم تصور کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو کمپنی ختم ہو رہی ہے اور نہ ہی ان ملازمین کو سرکاری ملازم کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ملازمین ایک نہ ختم ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور محرومی کا شکار ہیں۔ یہ رویہ سراسر ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے۔دوسری طرف، وفاقی حکومت نے حال ہی میں ایک نئی Contributory/Hybrid Pension Policy  متعارف کروائی ہے، جس کے تحت ملازمین کو یکمشت رقم اور مستقل ماہانہ پنشن دونوں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ نظام ملازمین کے لیے ایک محفوظ اور باعزت ریٹائرمنٹ زندگی کی ضمانت ہے۔صوبائی حکومت بھی فورا نجکاری ملازمین کے لیے اس پینشن پالیسی کو صوبائی سطح پر بھی متعارف کرائے۔لہٰذا ہماری مؤدبانہ استدعا ہے کہ:1. کمپنی ایکٹ کے تحت بھرتی شدہ WSSP اور دیگر پبلک سیکٹر کمپنیوں کے ملازمین کو EOBI کے بجائے نئی پنشن پالیسی میں شامل کیا جائے۔2. اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت، لوکل کونسل بورڈ اور محکمہ خزانہ سے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔3. کمپنی کیڈر ملازمین کو وہی حقوق دیے جائیں جو سرکاری اداروں کے دیگر ملازمین کو حاصل ہیں۔جناب عالی، اگر یہ بنیادی حق دیا گیا تو اس سے نہ صرف ملازمین کے مستقبل کو تحفظ ملے گا بلکہ ان کی محنت، کارکردگی اور لگن میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ ملازمین زندگی بھر کی خدمات کے باوجود بڑھاپے میں کمپرسی کا شکار ہو جائیں گے، جو حکومت کے انصاف اور فلاحی ریاست کے تصور کے برعکس ہے۔آخر میں، ہم آپ کی ہمدردانہ توجہ اور فوری ایکشن کے منتظر ہیں۔

منجانب

شوکت کیانی سرپرست اعلی

لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبر پختونخوا

سلمان ہوتی جنرل سیکرٹری

لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبر پختونخوا

شوکت علی انجم چیئرمین

پاکستان ورکرز فیڈریشن

جواب دیں

Back to top button