وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت پاکستان میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابزار کر رہی تھی۔ ایم این اے فیصل امین گنڈاپور کے علاوہ صوبائی حکومت اور ورلڈ بینک کے دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں صوبے میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔

صوبائی حکومت اور عالمی بینک کے درمیان مستقبل میں شراکت داری اور تعاون کے دیگر مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں مخلتف سماجی شعبوں میں اشتراک کار اور تعاون کے دائرے کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔ وفد کا سیلاب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار،صوبائی حکومت مختلف سماجی شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون اور اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ہم سماجی شعبوں میں ورلڈ بینک کے ساتھ تعاون اور اشتراک کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، صوبائی حکومت اپنے پوٹینشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ان سیکٹرز میں پن بجلی، مواصلات، معدنیات، زراعت، آبی وسائل، سیاحت وغیرہ شامل ہیں، صوبائی حکومت کو ان سیکٹرز میں بین الاقوامی اداروں کی سرمایہ کاری اور تعاون کی ضرورت ہے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام ورلڈ بینک کے نئے ڈیویلپمنٹ پورٹفولیو سے ہم آہنگ ہے، صوبائی حکومت کلائمیٹ چینج، ائیر کوالٹی، اسٹنٹ گروتھ، صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں پر فوکس کر رہی ہے، پہلی دفعہ صوبے میں کلائمیٹ ایکشن بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، بہت جلد صوبائی حکومت کلائمیٹ ریزئیلئنس بورڈ کی تشکیل بھی کی جائے گی۔ہم اپنے گریجویٹس کو تیکنیکی تربیت فراہم کرنے مخلتف پروگرامز شروع کئے ہیں، ان پروگراموں کا مقصد بین الاقوامی جابز مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اسکلڈ ورک فورس تیار کرنا ہے۔صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے میں معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی پر کام جاری ہے، اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت اپنی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے سی آر بی سی کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، صوبائی حکومت خود بھی اس منصوبے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، پشاور ڈی آئی خان موٹروے کا منصوبہ انتہائی قابل عمل اور منافع بخش منصوبہ ہے، صوبائی حکومت کو ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے ورلڈ بینک کی شراکت کی ضرورت ہے۔حالیہ سیلابوں سے صوبے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز مکمل کرکے اب بحالی کا عمل شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے تمام متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا سارا عمل ایک شفاف طریقے سے مکمل کر لیا ہے۔ بحالی کے عمل میں صوبائی حکومت کو بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون درکار ہے، متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام کی بحالی کے لئے ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری رورل ایکسسیبیلٹی پراجیکٹ کے تیسرے مرحلے پر بروقت کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔صوبائی حکومت ضم اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں ورلڈ بینک کے تعاون کی ضرورت ہے، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی آمدن بڑھانے کر معاشی طور پر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے لئے اقدامات کر رہی ہے، صوبائی حکومت نے بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کے لئے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کیا ہے، گزشتہ 17 مہینوں کے دوراں اس فنڈ میں 190 ارب روپے جمع کئے گئے ہیں۔






