وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین کی اعلیٰ سطحی ملاقات میں قومی فوڈ سکیورٹی پالیسی مرتب کرنے اور گندم کے کاشتکاروں کے لیے منصفانہ سپورٹ پرائس مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور ہاریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔جمعۃ المبارک کے دن وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، معاون خصوصی برائے خوراک جبار خان، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو اور سیکریٹری خوراک محمد بچل راہپوٹو موجود تھے۔ وفاقی حکومت کے وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق باجوہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر احمد عزیر اور جوائنٹ سیکریٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی سید بلال حیدر شامل تھے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی فوڈ سیکیورٹی خدشات پر خبردار کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سپورٹ پرائس کے بغیر کاشتکار گندم اگانے میں دلچسپی نہیں لیں گے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے وزیراعلیٰ کے خدشات تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں گندم کی کاشت میں 6 فیصد کمی ہوئی۔ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ آپ سے ملاقات کرکے قومی سطح پر حکمت عملی تیار کی جائے، کیونکہ وفاقی حکومت اسٹریٹجک گندم ذخائر قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ نے 25-2025ء میں 3.452 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا کی ہے اور صوبے کے پاس اس وقت 1.385 ملین میٹرک ٹن ذخیرہ موجود ہے، جو نئی فصل تک کافی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ سال سپورٹ پرائس نہ ہونے سے آبادگاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کے باعث کئی کسانوں نے اپنی زمین بیچنے یا دوسری فصلوں کی طرف جانے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں کاشت گھٹ گئی، پیداوار میں کمی آئی اور کھاد سمیت دیگر زرعی اخراجات برداشت کرنا آبادگاروں کے لیے مشکل ہوگیا۔طارق باجوہ نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی 90 فیصد گندم سندھ اور پنجاب میں پیدا ہوتی ہے اور ان ہی صوبوں میں 80 فیصد استعمال بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سہولت دینا ہی فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گندم درآمد کرنے کے بجائے مقامی آبادگاروں کو سہارا دیا جائے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ کھلی منڈی میں گندم کی قیمت فی من 3,300 سے 4,000 روپے کے درمیان ہے، اس لیے حکومتی پالیسیوں کے ثمرات براہِ راست آبادگاروں تک پہنچنے چاہئیں، نہ کہ بیوپاریوں تک۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبوں کی مشاورت سے ایک جامع قومی گندم پالیسی تیار کی جائے گی، جس میں کسانوں کی حمایت، شفاف خریداری نظام اور اسٹریٹجک ذخائر کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اس سال لازمی طور پر سپورٹ پرائس مقرر کرنا ہوگی تاکہ ہاری محفوظ ہوں۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنی عوام کے لیے خوراک کا تحفظ یقینی بنا سکیں گے۔
Read Next
22 گھنٹے ago
Sindh cabinet approves wheat import, minimum wage increase, PPP reforms, major governance initiatives
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کےلئے انقلابی اقدام،سکولوں میں اب چہرے کی شناخت سے حاضری لگے اور ترقی ہوگی
2 دن ago
*چیف سیکریٹری سندھ کی صدارت میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی میٹنگ*
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کے درمیان اہم اتفاق*
4 دن ago
مون سون کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ اور عوام کو بلا تعطل بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعلٰی سندھ
Related Articles
نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل ہیں،سید ناصر حسین شاہ
6 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا جدید تین صوبائی ڈیٹا سینٹر کے قیام کا حکم، جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت*
7 دن ago



