کراچی( بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سوچیں اور فیصلہ کریں کہ آیا ہم سیاسی و انتظامی معاملات آپس میں حل کریں یا اس کے لئے عدالت جانا ہے،پہلے ہی عدالتوں میں بہت مقدمات التوا کا شکار ہیں،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مخالفین رکاوٹیں ڈالیں یا مقدمے کریں مگر کراچی میں ترقی اور بہتری کے عمل کو روکا نہیں جاسکتاکیونکہ عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے، ایم یوسی ٹی کے معاملے پر مخالفین عدالت گئے اسٹے آرڈر لے لیا تھا،سندھ ہائیکورٹ نے اسٹے کو ہٹایا اور اعتراف کیا کونسل کا اختیار ہے ٹیکس وصول کرے، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی سے ہمارے معاملات اچھے ہوئے،قانونی اعتبار سے ہائیکورٹ اجازت دے چکا ہے، سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو ختم نہیں کیامگرجماعت اسلامی کے سیف الدین صاحب نے ایک مرتبہ پھر پارلیمانی سیاست کے بجائے اس اعتراض کی بنیاد پر ایم یو سی ٹی کے معاملے کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا کہ ہم نے ٹیکس بڑھانے میں اجازت نہیں لی جبکہ بجٹ اجلاس میں ان کے سامنے ٹیکس بڑھانے کی منظوری لی گئی تھی، ہم نے مارچ اپریل میں ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا تاہم اپوزیشن کی درخواست پر اس اضافے کو بجٹ تک مؤخر کئے رکھااوراب یہ کے ایم سی کے رواں مالی سال کے بجٹ کا حصہ بن چکا ہے۔

اس معاملے پر ہم تین نومبر کو کیس کی پیروی کے لئے جائیں گے۔کراچی شہر میں بلا تفریق ترقیاتی کام جاری ہے تاہم ترقی کے مخالف عناصر کی غلط بیانی اور منافقت سے تنگ آ گیا ہوں،اللہ پاک ہم سب کو توفیق دے کہ اس شہر کو منافقت سے پاک کریں۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور دیگر منتخب نمائندے بھی موجود تھے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ ایم یو سی ٹی 2008 میں لگا، ماضی میں ایم یو سی ٹی کی مد میں ساڑھے پندرہ کروڑ روپے کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں آتے تھے،ہم نے صنعتوں اور مارکیٹوں کا ٹیکس کم کر کے چار سو اور کم سے کم ٹیکس بیس روپے رکھ دیا تھاجس کے نتیجے میں ٹیکس کلیکشن کئی گنا اضافہ ہوا۔ گزشتہ اگست میں اس مد میں 35 کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں، یہ رقم شفاف انداز میں شہر کے گلی محلوں کو ٹھیک کرنے اور دیگر بہتری کے کاموں پر خرچ ہورہی ہے۔تجارت سے تعلق رکھنے والے کچھ دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایف بی آر پوچھ کر ٹیکس بڑھاتی ہے،میں نے پانچ ہزار سے کم کرکے چار سو کا ٹیکس کیا ان سے پوچھ کرمقرر کیا تھا،ہر سال فائر بریگیڈ کے محکمے پر کے ایم سی دو ارب خرچ کرتی ہے،760 آگ لگنے کے واقعات گزشتہ سال صنعتی علاقوں اور کمرشل مارکیٹوں میں ہوئے،477 گھروں میں آتشزدگی کے واقعات اور 402 چھوٹی آگ لگنے کے واقعات گزشتہ برس رونما ہوئے، 8 کروڑ 80 لاکھ بجلی کا بل کے ایم سی نے خود ادا کیا پہلے یہ بل سندھ حکومت دیتی تھی،میں لوگوں کو حقائق بتانا چاہتا ہوں، ہم نے بتایا 27 ارب جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن کو دیئے گئے،14 ارب روپے ٹاؤن نے روڈ کٹنگ کی مد میں لئے مگرایک سال ہوگیا ان پیسوں سے سڑکوں کی مرمت شروع نہ ہو سکی،سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو پانچ اعشاریہ سات ارب روپے دیے گئے ہیں 45 اسکیموں کے لئے مگرکوئی کام شروع نہیں ہوا،وقت آگیا ان کا احتساب کیا جائے گااور ان کے نکمے پن اور منافقت سے لیاقت آباد، ناظم آباد اور نیو کراچی والوں کو آزاد کروائیں گے،ان کے چندے اور انہیں ملنے والے پیسے کا حساب ہونا چاہئے، انہیں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ عدالت میں جاکر اپنی معصومیت اور مظلومیت کا کارڈ پیش کرتے رہیں۔ میئر کراچی نے کہاکہ کراچی شہر میں وفاقی حکومت چاہتی ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بند ہو جائے،حافظ صاحب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق آپ کو ایک بار پھر نظر ثانی کرنی چاہئے،مرتضیٰ وہاب اور سلمان عبداللہ مراد کا گھر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نہیں چلتا،خدارا اپنے اس بغض سے غریبوں کا بھلا ہونے سے نہ روکیں، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں ایسے فلاحی پروگراموں کو ہدف بنائیں گے تو اس کانقصان کراچی کے عوام کو ہوگا، انہوں نے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کہاکہ میں وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کراچی شہر میں کام کریں آپ کی مدد کرینگے،بڑے پیمانے کا کام کے ایم سی کے ذریعے ہو چھوٹے پیمانے کا کام ڈسٹرکٹ لیول سے ہو، انہو ں نے کہاکہ بی آر ٹی والوں کی جانب سے خط ملنے پر ہمارے چیف انجینئر نے جوابی خط لکھا،2017 سے 2025 میں آگئے ہیں اور چاہتے ہیں میئر کراچی سوال بھی نہ پوچھے، انہوں نے کہاکہ ہماری 106 سڑکوں کی بحالی پر کام شروع ہو گیا ہے،60 روز کا ٹارگٹ رکھا ہے ہم نے تاکہ شہر کی سڑکوں کو بہتر کیا جائے،جناح ایونیو کو بنانے کے لیے دس کروڑ روپے مختص کیے ہیں،اختیار یا وسائل ایشو نہیں ہیں وقت آ گیا ہے لوگوں کو ریلیف دینا ہے،ہم چاہتے ہیں معمولات ٹھیک ہوں اس شہر میں بہتری آئے، میں امید کرتا ہوں کہ کل جماعت اسلامی اپنی پریس کانفرنس میں پانچ اعشاریہ سات ارب روپے کا حساب دے گی۔ انہوں نے سعودی عرب کے قومی دن پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے،شہزادہ شاہ محمد سلمان کے شکرگزار ہیں، ہم نے سعودیہ کے قومی دن کے موقع پر اپنی عمارتوں پر سعودی پرچم لہرائے ہیں۔






