سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری نےآزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی مخالفت کر دی

سینئر سیاسی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری نےآزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی مخالفت کر دی عوامی ایکشن کمیٹی مہاجرین سے انکی شناخت چھیننے کی کوشش نہ کرے، اشرافیہ نے پاکستان کا بیڑہ غرق کیا انکی مراعات کے خاتمے کے حق میں ہوں،نیشنل پریس کلب پر پولیس گردی کی شدید مذمت کرتا ہوں،ملوث اہلکاروں کیخلاف سخت ترین ایکشن ہونا چاہئے، سینئر سیاسی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری نے ان خیالات کا اظہار عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، دانیال عزیز چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو سارے مطالبات پورے ہونے پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے تاہم کچھ چیزیں ابھی تک واضح نہیں ہیں، کشمیری مہاجرین ستائے ہوئے لوگ ہیں، مہاجرین کی نشتیں ختم کرنا کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے، پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے،جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سپریم کورٹ میں ان نشتوں کو برقرار رکھنے کیلئے لکھ کر دے چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنے اس مطالبے پر نظر ثانی، پی ٹی آئی کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو اپنے وعدے کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں پر مہاجرین کیلئے مخصوص 24 نشتیں بحال کی ہیں اور ہم یہاں پر الٹی طرف جا رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین کے فنڈز اور دیگر مراعات معطل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نےان کو سنے بغیر ہی عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے، اس فیصلے سے کشمیری دو حصوں میں تقسیم ہون گےجس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button