*سندھ بھر میں 22 سے زائد میگا سپورٹس ایونٹس منعقد کرانے کا فیصلہ*

سندھ حکومت نے رواں ماہ اکتوبر 2025 کے آخری ہفتے سے جون 2026 تک صوبے بھر میں 22 سے زائد میگا اسپورٹس ایونٹس منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں وزیر کھیل و امور نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، چیف انجینئر محمد اسلم مہر، سندھ اولمپکس ایسوسی ایشن کے احمد علی راجپوت، اصغر بلوچ، علی ڈنو گوپانگ سمیت دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں 35 ویں نیشنل گیمز کی تیاریوں، سندھ گیمز 2026ء جبکہ تھر جیپ ریلی سمیت دیگر ایونٹس پر بریفنگ دی گئی. وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے کہا ہے کہ رواں ماہ اکتوبر کے آخری ہفتے سے جون 2026 تک 22 سے زائد کھیلوں کے میگا ایونٹس کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پہلی بار دو روزہ سندھ ای اسپورٹس چیمپئن شپ نومبر میں کراچی میں منعقد ہوگا، جس میں میں ملک بھر سے نوجوان کھلاڑی حصہ لیں گے. انہوں نے کہا کہ "حوصلے کمال کے” عنوان سے 3 روزہ سندھ اسپیشل گیمز نومبر میں ہوں گے، سندھ یوتھ سائنس ٹیکنالوجی ایکسپو 2025 بھی نومبر کے آخر میں کراچی میں ہوگی، جبکہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں جنوبی کراچی میں تائیکوانڈو، کراٹے اور ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ ہوگا، ٹھٹہ میں نومبر میں دو روزہ کوہستان بل کارٹ ریس کے مقابلے ہوں گے۔ سردار محمد بخش مہر کا کہنا تھا کہ جذبہ جنون” کے عنوان سے فٹسال چیمپئن شپ کراچی میں آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں ہوگی، جنوری میں 19 ویں سندھ گیمز 2026 اور جبکہ فروری کے پہلے ہفتے میں تھر جیپ ریلی گھوٹکی میں ہوگی۔یوتھ سائنس فیسٹیول میں کراچی کی سرکاری و نجی جامعات کے طلبہ، صنعتکار اور ماہرین شرکت کریں گے۔ وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ اسپیشل گیمز پی سی بی کوچنگ سینٹر، یوتھ سائنس فیسٹیول سندھ یوتھ کلب گلستان جوہر اور ای اسپورٹس گیمز مقامی ہوٹل میں ہوں گے۔سردار محمد بخش مہر کا کہنا تھا کہ یوتھ سائنس ٹیکنالوجی ایکسپو 2025 نوجوان سائنسدانوں کو انڈسٹری سے جوڑنے کا ذریعہ ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع دینا حکومت سندھ کی ترجیح ہے۔ سندھ کے نوجوان ٹیلنٹ اور جذبے میں کسی سے کم نہیں۔

سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ خصوصی کھلاڑیوں کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سندھ حکومت نوجوانوں کو عالمی مواقع دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ 35 ویں نیشنل گیمز کی میزبانی کے لیے سندھ حکومت کی تیاریاں مکمل ہیں ۔

جواب دیں

Back to top button