وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ میں بار ایسوسی ایشنز کے لیے گرانٹس کی تقسیم کی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ، پشاور بار ایسوسی ایشن کو ایک کروڑ، جبکہ نوشہرہ، مہمند اور چارسدہ کی ضلعی بار ایسوسی ایشنز کو 50، 50 لاکھ روپے کے چیک دیئے گئے۔ اسی طرح پبی، شبقدر اور تنگی کی تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے لیے 25، 25 لاکھ روپے کی گرانٹس کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے پشاور بار کے لیے مزید 2 کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔اپنے خطاب میں

وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کو کبھی بھی آئینی نظام اور عدلیہ کی آزادی کے تقدس پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔ آج یہاں آنے کا مقصد سیاست نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحفظ کے لیے مضبوط اور واضح موقف اختیار کرنا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو کمزور اور عدالتی سینیارٹی کی روایات کو مجروح کیا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال پورے آئینی ڈھانچے پر کاری ضرب ہے۔ انہوں نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود ایک کانسٹیبل نے انہیں روک دیا، جو اس نظام میں خطرناک بگاڑ کا ثبوت ہے۔ اگر ایک موجودہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو عام شہری کس صورتحال سے گزرتے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ ناانصافی کے خلاف خاموشی توڑیں، کیونکہ خاموشی ایک دن سب کو متاثر کرتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ججز اگر اپنے فیصلے نافذ نہ کروا سکیں تو انہیں عوام کے سامنے آنا ہوگا اور وکلا کو بھی ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔تعلیم کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں آٹھویں جماعت تک یکساں نصاب نافذ کیا جا چکا ہے اور 2026 تک اسے بارہویں جماعت تک وسعت دی جائے گی، تاکہ ہر بچے کو معیاری اور ایک جیسی تعلیم کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ آخر میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔






