*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے نظام کا افتتاح کردیا*

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز ’’اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم‘‘ (ایس اے ایم آر ایس) کا افتتاح کیا جسے انہوں نے ’’ایک انقلابی، تبدیلی لانے والا اور قومی سطح پر قابلِ تقلید ماڈل‘‘ قرار دیا جو تعلیم میں اصلاحات کے مرکز میں ٹیکنالوجی اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو رکھتا ہے۔مقامی ہوٹل میں صوبائی سطح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ایس اے ایم آر ایس پہلی مرتبہ سندھ یا پاکستان کے کسی بھی صوبے میں متعارف کرایا گیا ایسا جامع ڈیجیٹل نظام ہے جو طلبہ کی حاضری، اسکول کے بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی نتائج کو باہم جوڑتا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ صرف ایک مانیٹرنگ ٹول نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو ہمیں مفروضوں کے بجائے اعداد و شمار پر مبنی فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے بچوں کے مسائل کی واضح شناخت اور فوری و مؤثر ردِعمل کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔تقریب میں وزیرِ تعلیم سید سردار شاہ، عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما امگابازار، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف)، عالمی شراکت برائے تعلیم (جی پی ای)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، برٹش کونسل، جائیکا، محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی (ایس ای ایل ڈی) کے حکام، ماہرینِ تعلیم اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

پاکستان کے لیے ایک ماڈل

وزیرِ اعلیٰ نے زور دیا کہ ایس اے ایم آر ایس پہلے ہی 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں فعال ہو چکا ہے جبکہ یونیسیف کی معاونت سے شروع کردہ ایک منصوبے کے تحت مزید چار اضلاع میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام صرف غیر حاضری کی نگرانی کے لیے نہیں بلکہ طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے خطرات کی پیش گوئی، ضروری اقدامات کی تجویز اور مجموعی اسکول نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس اے ایم آر ایس ایک ایسا ماڈل ہے جسے پورا پاکستان اپنا سکتا ہے۔ ہم اسے ایک نئی پالیسی کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دے رہے ہیں تاکہ اس کی پائیداری، ملکیت اور سندھ کے تعلیمی نظمِ حکمرانی کے فریم ورک میں اس کے انضمام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیرِ اعلیٰ نے عالمی بینک، جی پی ای اور تمام ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سندھ میں عوامی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے میں ’’اعتماد، تکنیکی رہنمائی اور مسلسل تعاون‘‘ فراہم کیا۔ انہوں نے محکمۂ تعلیم، ریفارم سپورٹ یونٹ (آر ایس یو) اور سلیکٹ پروجیکٹ ٹیم کی ’’جدت، عزم اور محنت‘‘ کو بھی سراہا۔

بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کثیرالجہتی وژن

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تعلیم کو صحت، غذائیت اور بچوں کے تحفظ سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایس اے ایم آر ایس کو بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری، صحت کی جانچ اور سماجی تحفظ کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول صرف جماعتیں نہیں ہونے چاہئیں بلکہ انہیں بچوں کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کے اعتماد کے مراکز بننا چاہیے۔

وزیرِ تعلیم کی جانب سے تاریخی کامیابی پر تعریف

وزیرِ تعلیم سید سردار شاہ نے اپنے خطاب میں ایس اے ایم آر ایس کو ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک ایسا ڈیجیٹل نظام قائم ہوا ہے جہاں حاضری، کارکردگی اور اسکول کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ڈیٹا ایک جگہ جمع ہو کر فیصلوں کی رہنمائی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نادرا کی معاونت سے اب طلبہ کی شناختیں سسٹم سے پیدا کردہ شناختی نمبروں کے بجائے تصدیق شدہ بی فارم نمبروں میں منتقل ہو رہی ہیں جس سے سندھ کے ہر بچے کی شناخت اور معاونت یقینی بنائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایس اے ایم آر ایس استعمال کرنے والے 99 فیصد اسکولوں نے حاضری کی رپورٹنگ کی جبکہ 92 فیصد نے اصلاحی طریقہ کار نافذ کیا جو طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما امگابازار نے اس موقع پر کہا کہ ایس اے ایم آر ایس عطیہ دہندگان کا نہیں بلکہ سندھ حکومت کا اپنا منصوبہ ہے۔ یہ صرف طلبہ کی حاضری کا نظام نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا عزم ہے۔

سلیکٹ منصوبہ

وزیرِ اعلیٰ نے عالمی بینک اور عالمی شراکت برائے تعلیم (جی پی ای) کے مالی تعاون سے جاری ’’سلیکٹ پروجیکٹ‘‘ کا بھی ذکر کیا، جو ابتدائی درجوں میں خواندگی کو بہتر بنانے، تدریسی طریقوں کو جدید بنانے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اسکول انفراسٹرکچر تیار کرنے اور ایس اے ایم آر ایس و استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے طلبہ کے تسلسل کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔154.7ملین امریکی ڈالر کے اس پروگرام کا دائرہ کار 12 اضلاع پر محیط ہے جس کا مقصد تعلیمی کمزوری کو کم کرنا اور خصوصاً لڑکیوں میں اسکول حاضری کو فروغ دینا ہے۔حکومت نے اعلان کیا کہ ایس اے ایم آر ایس کو صوبے بھر میں توسیع دینے کے لیے ایک منظم تربیتی سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں ماسٹر ٹرینرز سے آغاز کر کے کلسٹر ہیڈز اور تمام سیٹلائٹ اسکولوں تک تربیت فراہم کی جائے گی۔ زیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہی طریقہ ہے جس سے ہم جدت کو ورثے میں تبدیل کرتے ہیں۔مراد علی شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت کی ہر اصلاح، چاہے وہ تکنیکی نظام ہو یا انفراسٹرکچر منصوبہ ، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے بچوں کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ ہر بچہ حاضری، دلچسپی اور ترقی کا مستحق ہے۔ یہی وہ مستقبل ہے جو ہم مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘افتتاحی تقریب کا اختتام صوبائی حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور تعلیمی ماہرین کی جانب سے اس عہد کے ساتھ ہوا کہ وہ تعلیمی نظم و نسق کو مضبوط کریں گے اور سندھ بھر میں ایک جدید، منصفانہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی نظام فراہم کریں گے۔اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ سندھ نے وزیرِ تعلیم سید سردار شاہ اور عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما امگابازار کے ہمراہ کمپیوٹر بٹن دبا کر ’’اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم‘‘ (ایس اے ایم آر ایس) کا باضابطہ افتتاح کیا۔

جواب دیں

Back to top button