جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہی کہ مون سون ہوائیں اس وقت آہستہ آہستہ کرکے خطہ برصغیر میں داخل ہورہی ہیں۔
مون سون ہوائیں اس وقت گجرات تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم اسکی چہل قدمی اچانک زور پکڑنے کے امکانات ہیں آئیندہ کچھ روز تک۔ مون سون پاکستان میں اپنے مقررہ تاریخوں پہلے ہی داخل ہوگا۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں مون سون جون تیسرے ہفتے سے داخل ہونا شروع ہوجائیگا ۔ البتہ مون سون کی شمال مشرقی شاخ پر اس وقت مون سون ہواؤں کی چہل قدمی قدر سست ہوئی ہے۔ لیکن جب مون سون ہوائیں بحیرہ ہند میں طول پکڑیں گی مون سون کی شمال مشرقی شاخ پر تیزی سے اتر پردیش ، بہار اور ہندوستان کی شمال مغربی ریاستوں کے راستے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مون سون داخل ہونا شروع ہوجائیگا جون کے تیسرے ہفتے تک متوقع ہے۔ تاہم مون سون کی پیشنگوئی پر چلنے سے اہم موسمی نکاتی فیکٹر کا ذکر کرتے ہیں۔
✏️اہم نکاتی فیکٹر :-
▪️ بحیرہ قیانوس کے وسطی حصے کا سطح سمندر کا درجہ حرارت (ENSO)
▪️ بحیرہ ہند کے سطح سمندر کا درجہ حرارت (IOD)
▪️ بحیرہ قیانوس کے مشرقی حصے کے درجہ حرارت (Pacific oceanic decadel)
▪️ تبت اور ایران پر موجود ہوا کا زیادہ دباؤ (Tibet – Iranian HP)
▪️ مغربی برکھائی سلسلہ (Western disturbance)
▪️ منتقل حمل حرارت:-
▪️ موسمی تاریخ (Weather Cycle)
📍 بحیرہ قیانوس کا سطح سمندر کا درجہ (ENSO):-
جیسے ہم اپنے پیچھلے مشاہدے میں اپکو آگاہ کرتے آرہے تھے تو ہماری عین توقعات کے مطابق یہ مون سون بھی ایک Evolving La-nina ثابت ہوگا مون سون کے پہلے مرحلے میں غیر جانب (Neutral) جبکہ دوسرے مرحلے کے آخری ایام میں (Weak La-nina) . اس بحیرہ قیانوس کے وسطی حصے کا درجہ حرارت اب آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا جو ستمبر کے اختتام تک ایک کمزور نوعیت کا لانینا رونما ہو جائیگا ۔
عموماً لانینا یا ابھرتا ہوا لانینا (Evolving La-nina) والے مون سون کے خدو خال میں عموماً خلیج بنگال میں مون سون کم دباؤ تو بنتے ہیں لیکن اس کے ساتھ بحریہ کے شمالی حصے بھی سرگرم رہتا ہے یعنی خلیج بنگال بتدریج رونما والی سرگرمیوں کا پھیلاؤ (Convectional Band) کی صورت میں شمالی بحیرہ میں بھی رونما ہوتا جو منسلک کم دباؤ بناتے یعنی جب ایک کم دباؤ خلیج بنگال میں بنتا بلکل اسی طرح دوسرا کم دباؤ بحیرہ میں گجرات کی قریب بنتا ہے ۔ اسے (Nexus Circulation) بھی کہتے ہیں اسکی مثال ایسے ہی جیسے (موٹر سائیکل کا پیچھلا پہیہ گھومتا اگلا پہیہ بھی پیچھلے پہیے کی طاقت سے گھومنے لگتا ہے).
عموماً اس طرح کے خدو خال میں بعض اوقات میں خلیج بنگال کا ہوا کا کم دباؤ بحیرہ عرب میں موجود منسلک کم دباؤ میں ضم ہوکر ایک مکمل کن دباؤ کی بھی شدت اختیار کرلیتا ہے۔
یہ خدو خال اس لئیے رونما ہوتے کیونکہ اس لانینا یا ابھرتے ہوئے لانینا کے دوران مون سون اسٹریم کافی مضبوط ہوتی ہے جبکہ 7000 فٹ کی بلندی پر چلنے والی ہوائیں بھی کافی طاقتور ہوتی ہیں۔
لیکن امکانات یہی ہے کہ لانینا ستمبر میں آئے۔۔
📍 بحیرہ ہند کا سطح سمندر کا درجہ حرارت (IOD):-
بحیرہ قیانوس میں ممکنہ لانینیا کی صورتحال کی وجہ سے بحیرہ ہند کا سطح سمندر کا درجہ حرارت جولائی سے اگست ماہ میں منفی رہنے کے امکانات ہیں (Weak Negative IOD) ۔ جولائی کے ماہ میں بحیرہ ہند میں کے مغربی کنارے سطح سمندر کے درجہ حرارت تھوڑا ٹھنڈا رہنے کے امکانات ہیں البتہ اگست میں ممکنہ لانینیا کی وجہ سے بحیرہ ہند کے سطح سمندر کا درجہ کافی حد تک ٹھنڈا رہنے کے امکانات ہیں جو خطے برصغیر میں مون سون ہواؤں کی روانی میں اضافے کا سبب بنے گے۔ اصل کلیدی کردار (Indian ocean Dipole ) کا رہے گا۔
بحیرہ عرب کے شمال مشرقی حصے میں سطح سمندر کا درجہ حرارت جولائی اور اگست دونوں میں ہی زیادہ گرم رہنے کے امکانات ہیں۔ جو خلیج بنگال میں بنے والے ہوا کے کم دباؤ کے منسلک رہے کر خلیج بنگال کے ہوا کے کم دباؤ کو اپنی طرف منتقل کرسکتے ہیں۔
📍 تبت اور ایران پر موجود ہوا کا زیادہ دباؤ (Tibet – Iranian HP):-
اس بار مون سون ہواؤں کی روانی پیچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ مضبوط رہے گی۔ جس سے دو بڑے ہوا کے زیادہ دباؤ ایک یعنی (Tibat Hp) / (Iranian HP) ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک منسلک رہے پائے گے جس مشرقی ہواؤں کی روانی میں اضافہ رہے گا۔ رہے گی جبکہ مغربی ہواؤں کی روانی کمزور رہے گی۔
📍 مغربی برکھائی سلسلہ (Western disturbance):-
مغربی برکھائی سلسلہ اس سال بھی مون سون بھی زیادہ فعل کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں جیسے مندرجہ ذیل اوپر بتائے ہوئے (Iranian + Tibat HP) کے ایک دوسرا منسلک رہنے کی وجہ مغربی نشیب زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکے گے۔
جو پاکستان کے شمالی حصوں میں بارشوں کے لئیے ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مغربی نشیب کچھ محدود اوقات کے لئیے سرگرم ضرور رہے گے لیکن مون سون سسٹم زیادہ مضبوط رہنے کی وجہ سے یہ اپنا زیادہ کردار ادا نہیں کر پائے گے۔
📍 منتقل حمل حرارت:-
اس بار منتقل حمل حرارت (Enhance convection) کا کافی اہم کردار رہے گا۔ (MJO) فلحال مون سون کی کافی حمایت میں نظر آرہی جو وقفے وقفے منقطع حاری کی شدت میں (, Tropical Energy) کو میں اضافے کرتی رہے گی جس مون سون ہوائیں زیادہ شدت سے سرگرم رہے گی۔
📍 موسمی تاریخ (Weather Cycle):-
موسمی سائیکل سے اس بار پیشنگوئی کرنا تھوڑا مشکل کیونکہ اس سے ملتے جلتے خدوخال تاریخ میں کہیں بھی مشاہبت نہیں رکھ رہے البتہ قریب قریب یہ ہے کہ 2020 جیسا مون سون اس سال ثابت ہوسکتا ہے۔
لیکن پر سائیکل کے حساب سے اس سال کے اختتام میں یا اگلے ایک طاقتور ایل نینو رونما ہوسکتا جو اگلے سال کے مون سون شروع ہونے سے پہلے شاید ختم ہوجائے۔
📌 پنجاب:-
پنجاب میں مون سون بارشوں کا تناسب معمول کے مطابق (100٪ – 105٪ ) رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے شمالی حصوں میں معمول سے تھوڑی زیادہ بارشیں یعنی (105٪ ) کے امکانات ہیں بلخصوص شمال مشرقی حصوں میں جن میں (115٪) جن میں ناروال ، سیالکوٹ ، گجرانوالہ ، لاہور ، اسلام آباد ، روالپنڈی ، گجرات ، شیخوپورہ ، جہلم ، چکوال ، میاں والی ، اور اٹک شامل ہیں۔
جبکہ پنجاب کے وسطی حصوں میں میں بارشوں کا تناسب معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے (100%-105%)۔ جن میں خوشاب ، سرگودھا ، چنیوٹ ، اوکاڑہ ، بھکر ، جھنگ ، ساہیوال ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، پاک پتن ، لیہ ، خانیوال ، ویہاڑی اور بہاولنگر شامل ہیں۔۔
اس بار بھی پنجاب کے جنوبی حصوں میں اس سال بھی بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کے امکانات ہیں بلخصوص چولستان کی صحرائی پٹی اور سلیمان پہاڑی سلسلہ کے پٹی پر۔ پنجاب کے جنوبی حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے (100% – 110% ) اضلاع وار بات کریں تو ملتان ، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان ، لودھراں ، بہاولپور ، رحیم یار خان اور راجن پور شامل ہیں۔ زیادہ بارشوں کے امکانات جنوبی حصوں پر اگست کے ماہ میں ہے۔
بہت سے موسمی فیکٹرز کا جائزہ لینے کے بعد اسکے بعد کے امکانات زیادہ قوی ہیں مون سون ایکسس زیادہ تر گجرات کی سمت تک ہی رہے گا۔ ہمالیہ کے دامن تک جانے کے امکانات زیادہ نہیں ہوں گے۔
البتہ مون سون ایکسس اس تھوڑا شمال یعنی گجرات کے بجائے راجستھان پر رہے گا جو ہوا کم دباؤ کی سمت راجستھان کی جانب زیادہ رہے گی۔
📌 خیبرپختونخواہ:-
خیبرپختونخواہ میں عموماً مون سون ہواؤں کی مداخلت کم ہی رہتی لیکن مغربی نشیب کی مداخلت سے (Interaction) ہوجاتے ہیں۔ جو خیبرپختونخواہ کے شمالی حصوں میں بارشیں دے جاتے ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں بارشوں کا تناسب معمول سے کے قریب رہنے کے امکانات (100% – 105٪) زیادہ بارشوں کی توجہ شمالی حصوں پر رہے گی۔ خیبرپختونخواہ کے شمالی حصوں میں معمول کے قریب بارش (105٪ – 100%) ہونے کے امکان ہے جن میں اپر و لوئر چترال ، سوات ، مانسہرہ ، بٹگرام ، کوہستان ، شانگلہ۔ سوات ، لوئر و اپر دیر ، بونیر ، ہری پور ، ایبٹ آباد ، صوابی ، مردان ، مالاکنڈ اور باجوڑ شامل ہیں۔
جبکہ دیگر حصوں میں بارشوں تناسب (95% -100%) معمول کے قریب رہنے کے امکانات ہیں جن میں محمد ایجنسی ، چارسدہ ، پشاور ، خیبر ، کوہاٹ ، اورکزائی ، کڑک ، ہنگو ، خرم ، لکی مروت ، بنوں ، شمالی و جنوبی وزیرستان ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔۔
📌 گلگلت اور کشمیر :-
کشمیر میں بارشوں کے امکانات معمول سے زیادہ رہنے کے امکانات ( 115٪ – 105٪) جبکہ زیادہ اسپیل جولائی و اگست کے ماہ میں آنے کے امکانات ہیں۔۔ زیادہ تر بارشیں مون سون ہواؤں کی مداخلت سے ہوں گے۔
جبکہ گلگلت میں میں بارشوں کا تناسب سے معمول سے کم رہنے کے امکانات ہیں۔
📌 بلوچستان:-
اب بات کی جائے پاکستان کے جنوبی صوبوں کی۔ تو بلوچستان کا موسم کافی تیزی تبدیل ہوا عموماً تو بلوچستان میں مون سون ہواؤں کا پہنچنا مشکل رہتا ہے لیکن گزشتہ بارشوں کے ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر ہے کہ اس سال بھی بلوچستان میں مون سون بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کے (110٪ – 100٪) امکانات جبکہ 55٪ فیصد حصوں پر معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات بھی ہیں۔ بلخصوص مشرقی حصوں پر معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے (105% – 110%)۔ جن میں قلعہ سیف اللہ ، ژوب ، کوئٹہ ، لورالائی ، دوکی ، موسیٰ خیل ، سبی ، کاچی ، پیشین ، زیارت ، قلعہ عبداللہ ، مستونگ ، دیرہ بگٹی ، کوہلو ، برکھان ، جعفرآباد اور صحبت پور اور جھل مگسی شامل ہیں۔
جبکہ بلوچستان کے وسطی حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات ہیں (110% – 115%)۔ جن میں شہید سکندرآباد ، خضدار ، قلات ، لسبیلہ ، کھاران ، واشک اور چاغی شامل میں۔۔
بلوچستان کے جنوبی حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات ہیں (110% – 120%). جن میں لسبیلہ ، گوادر ، اوران ، پنجگور اور کیچ شامل ہیں۔
بلوچستان کے بارشوں کے خدوخال کے پیچھلے سال جیسے ہی رہے گے البتہ اس بار شدت کافی اضافے کا امکان ہے۔
بلوچستان میں زیادہ تر یہ بارشیں منسلک کم دباؤ (Induced circulation) سے ہوں گے ۔ البتہ مون سون کم دباؤ کا بلوچستان تک پہنچنا فلحال اس سال بھی ممکن نہیں ہے لیکن منسلک کم دباؤ جیسے سرگرمیسں زیادہ رونما ہونے کی وجہ بارشیں کا تناسب زیادہ رہے گا۔ جبکہ اگست میں بھی کچھ ایسے اسپیل آسکتے جس میں ہوا کے کم دباؤ بلوچستان کی ساحلی پٹی کے قریب سے گزرے
📌 سندھ:-
سندھ میں بارشوں کا تناسب معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے (110٪ – 120%)۔ سندھ کے بالائی حصوں میں بارشوں کا تناسب معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے (110% – 105%) رہنے کا امکان ہے ۔ جن میں لاڑکانہ ، شکار پور ، گھوٹکی ، سکھر ، پنو عاقل ، قمبر ، شہدادکوٹ ، جیک آباد ، ڈھرکی ، کشمور ، نوشہرہ فیروز پور ، دادو اور خیر پور شامل ہیں۔
سندھ کے وسطی و جنوب مشرقی حصوں میں بارشوں کا تناسب معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے (120٪ – 110٪) رہنے کے امکانات ہیں جن میں ضلع شہید بےنظیراباد ، مٹیاری ، میر پور خاص ، ٹنڈو الہ یار ، حیدرآباد ، سانگھڑ ، شھداپ پور ، ٹنڈو آدم ، عمر کوٹ اور تھرپارکر
سندھ کے جنوبی حصوں میں بھی معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات ہیں جن میں بارشوں کا تناسب (120٪) رہنے کا امکان ہے۔ جن میں بدین ، ٹھٹہ ، سجاول ، ٹنڈو محمد خان اور کراچی شامل ہیں۔مون سون ایکسس کی زیادہ تر توجہ راجستھان پر ہوگی لحاظہ بالائی اور وسطی حصوں میں زیادہ بارشوں کے امکانات جبکہ کچھ کم دباؤ کمزور نوعیت سے صوبہ سندھ میں داخل بھی ہوسکتے ہیں راجستھان کے راستے سے۔
البتہ شروعاتی مون سون بارشیں گجرات پر بننے منسلک کم دباؤ (Induced Circulation) سے ہوگی۔
🔴 شہر کراچی:-
سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارشوں کا تناسب معمول کے قریب رہنے امکانات ہیں 105٪ تک۔ زیادہ تر بارشیں منسلک کے کم دباؤ (Induced circulation) سے ہونے کے امکانات ہیں۔ جبکہ خلیج بنگال کے کم دباؤ بھی شہر کو متاثر کریں گے ہماری پیشنگوئی کے مطابق شہر کراچی میں 220+ ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوسکتی ہے۔ شہر قائد میں جولائی۔ ، اگست اور ستمبر تینوں ماہ بارشوں کے امکانات ہیں۔
🖋️ اختتامیہ:-
اگر پورے مون سون خدوخال جائزہ لیں تو پاکستان میں اس بار پھر بارشوں کا تناسب معمول سے تھوڑا زیادہ ہی رہنے کا امکانات ہیں یعنی 10 فیصد زائد ۔
فلحال یہ مون سون بھی ایک سازگار مون سون ہوگا کوئی تباہ کن بارشوں کے امکانات نہیں ہی کیونکہ لانینا کافی دیر یعنی ستمبر میں جاکر رونما ہوگا۔ زیادہ تر مون سون کا حصہ غیر جانبدار (Neutral) حالات میں ہی گزرے گا۔ جبکہ ہمارے ناظرین سے یہی گزارش نقشے کے ساتھ ساتھ تحریر لازمی میں پڑھا کریں کیونکہ جو حالات ہم تحریر میں جتنی تفصیل سے بتاتے ہیں وہ ہماری موسمی نقشے میں اتنی واضح نہیں ہوتی۔
یہ مون سون بھی پیچھلے مون سون سے کافی ملتا جلتا رہے گا البتہ بارشیں پیچھلے مون سون کی نسبت زیادہ ہی ہوں گے۔
ہماری پوری کوشش رہتی ہے کہ مزید ہر گرزرتے سال کے ساتھ پیشنگوئی کو مزید ٹھوس کرتے چلے۔ اور وقت گزرنے کا ساتھ ساتھ ہماری مون سون کی لمبے دورانیے کی پیشنگوئی میں کافی درستگی بھی آئی ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI based observation) کا بھی کافی کردار ہے۔ ہم پہلی ایسے موسمی تنظیم جنہوں موسم کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کو سب سے پہلے استعمال کیا تھا جو ہمارے پرانے فالورز وہ اس بات کی تصدیق بھی کرسکتے ہیں فلحال کچھ وجوہات کی بنا پر اسکا استعمال ہم کافی محدود کردیا ہے۔ لیکن اس پیشنگوئی کرنے میں ہمیں کافی مدد حاصل رہی ہے۔ پیچھلے سال مون سون 2024 کی پیشنگوئی بھی ہم نے کافی حدتک درست گئی تھی خاص طورپر پنجاب ، سندھ اور خیبرپختونخواہ کو لے کر جن لوگوں نے اس وقت کی ہماری تحریر پڑھی ہوگی وہ بہتر جانتے ہیں۔
انشاء اللہ اس بار بھر وہی درستگی کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔



