محمد سہیل آفریدی نے لوئر دیر میں مکمل ہونے والے نئے کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لوئر دیر میں مکمل ہونے والے نئے کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ 40 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ منصوبہ ماحول دوست اور کم لاگت توانائی فراہم کرے گا۔ اس کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ 2.4 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے، جبکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے ترمنگ سے رازگام تک 18.5 کلومیٹر طویل سڑک کا بھی افتتاح کیا،

جس کی تعمیر سے لوئر دیر کے عوام کو بہتر اور آسان سفری سہولیات میسر آئیں گی۔تقریبِ افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں اور دیگر معزز مہمانوں کو روایتی شال اور ٹوپیاں پہنائی گئی۔ان کے ہمراہ صوبائی صدر جنید اکبر، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، سیکرٹری محکمہ انرجی اینڈ پاور، اعلیٰ حکام، کمشنر و ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ سمیت پارٹی قائدین اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعلیٰ کو دونوں منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے افتتاحی تقریب سے خطاب بھی کیا۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لوئر دیر میں کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  صوبائی حکومت پن بجلی کے وسیع ذخائر کو معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کے لیے جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے 40.8 میگاواٹ کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 1.5 ارب روپے کی لاگت سے 18.5 کلومیٹر تورمنگ–رازگرام روڈ کے افتتاح کو صوبے کی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ بریفنگ کے مطابق کوٹو منصوبہ 21.7 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے اور سالانہ 207 ملین یونٹس بجلی فراہم کرے گا، جس سے 2.4 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار اپنی پاور ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے جو 11 ہائیڈرو منصوبوں کی بجلی کی ترسیل ممکن بنائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی پاور ہاؤسز سے پیدا ہونے والی بجلی صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ صنعتی سرگرمیوں کو بھی ایک نیا فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے پاور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے قیام اور استحکام کے لیے ہر سطح پر مکمل سپورٹ فراہم کرے گی کیونکہ صوبے کے قدرتی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے این او سی کے معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی انجینیئرز کے خیبر پختونخوا کے دورے کے لیے این او سی جاری نہ ہونے سے کئی ارب روپے کے اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عوامی مفاد میں ان منصوبوں کی بنیاد رکھی، بغیر اس سوچ کے کہ افتتاح کس دورِ حکومت میں ہوگا، اور آج ان منصوبوں کو عملی شکل میں دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے واجب الادا 3 ہزار ارب روپے فوری ادا کیے جائیں تاکہ صوبہ اپنی ترقی کے سفر کو تیزی سے جاری رکھ سکے۔

جواب دیں

Back to top button