سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کیول آرٹ گیلری میں ’’نورٌ علیٰ نور‘‘ آرٹ نمائش کا افتتاح کیا جو دعوتِ ہادیہ کی سرپرستی میں ریڈیئنٹ آرٹس کے تحت منعقد ہونے والا ایک اہم ثقافتی پروگرام ہے۔ نمائش کی کیوریٹر الفیہ عباس علی نے دنیا بھر کے مختلف فنکاروں کے ایسے کام جمع کیے ہیں جو الہٰی نور کے روحانی استعارے کو مختلف فنون کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ کے پہنچنے پر دعوتِ ہادیہ کے کمال یونس اور ریڈیئنٹ آرٹس کی ٹیم نے ان کا استقبال کیا اور نمائش کے موضوع، فنی سمت اور عالمی شرکت کے بارے میں بریفنگ دی۔ فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد وزیراعلیٰ نے 19 مختلف ڈسپلے کارنرز کا معائنہ کیا جہاں انہوں نے مصوری، روشن شدہ فن پاروں، خطاطی، مقدس جیومیٹری، ٹیکسٹائل آرٹ اور انسٹالیشنز کا جائزہ لیا۔مراد علی شاہ نے نے فنکارانہ معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش تخلیق اور روحانیت کا شاندار امتزاج ہے۔ فنکاروں نے ربانی رہنمائی کی علامت کے طور پر نور کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ واقعی ایسی فنکاری ہے جو روح کو تقویت دیتی ہے اور ثقافتی فہم میں اضافہ کرتی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سندھ نے ہمیشہ تنوع، ثقافت اور فکری اظہار کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے ریڈیئنٹ آرٹس اور داؤدی بوہرا کمیونٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش ہم آہنگی، امن اور روشن خیالی کی مشترکہ اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔
الہٰی نور کے قرآنی استعارے کا سفر
نمائش کا مرکزی خیال سورۃ النور (آیت 35) کے مشہور ’’آیتِ نور‘‘ سے ماخوذ ہے، جو صدیوں سے مسلم علمی روایت، روحانیت اور فنون کے لئے رہنمائی کا سرچشمہ رہی ہے۔ مقدس ڈیزائن، خطاطی اور علامتی اشکال کے ذریعے فنکار تاریکی سے روشنی کی طرف کے سفر کو ’’نورٌ علیٰ نور‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔نمائش میں ایسے کام بھی شامل ہیں جو الہٰی رہنمائی سے متعلق دیگر قرآنی آیات سے ماخوذ ہیں، جن میں شامل ہے: ’’اللّٰہ مومنین کا دوست ہے، وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے‘‘ (2:257)، اور سورۃ المائدہ (آیت 55) کی وہ آیت جو تاریخی طور پر مولا علیؑ کے ساتھ منسوب ہے اور نورانی تجلی کی علامتی تعبیر سمجھی جاتی ہے۔گیلری کے مختلف حصوں میں پیش کیے گئے فن پارے کلاسیکی اسلامی جیومیٹری، روشن شدہ مخطوطات اور فاطمی طرزِ تعمیر کے نقوش—جیسے قاہرہ کی جامع الاقمرسے متاثر ہیں، جو فن، روحانیت اور الہٰی علامتوں کے دیرینہ رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ریڈیئنٹ آرٹس
ریڈیئنٹ آرٹس—انوار الفنون—داؤدی بوہرا کمیونٹی کا خواتین کی قیادت میں چلنے والا ایک غیر منافع بخش پلیٹ فارم ہے جو اسلامی اور ثقافتی ورثے سے جڑے فنون کو فروغ دینے کے لئے قائم کیا گیا۔ 2017 میں قیام کے بعد سے یہ ادارہ افریقہ، سری لنکا، بھارت اور امریکا میں 14 نمائشیں منعقد کر چکا ہے۔ یہ کراچی میں ریڈیئنٹ آرٹس کی پہلی نمائش ہے، جو پاکستان میں اس کمیونٹی کی ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے پلیٹ فارم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہیں اور نوجوان نسل کو اپنے ورثے سے جڑنے کے بامعنی مواقع فراہم کرتی ہیں۔ میں مزید ایسی ثقافتی کاوشوں کا منتظر ہوں جو تخلیق، مکالمے اور اتحاد کو فروغ دیں۔ منتظمین نے وزیراعلیٰ کے تعاون اور فنون کے ذریعے معاشرتی یکجہتی کے فروغ کے اعتراف پر ان کا شکریہ ادا کیا۔






