پاکستان یونائیٹیڈ ورکرز فیڈریشن کی جعلسازی کو این آئی آر سی نے بےنقاب کرتے ہوئے اس کی رجسٹریشن کو منسوخ کر دیا۔ان خیالات کا اظہار ملک گیر مزدور تنظیم پاکستان ورکرز فیڈریشن PWF رجسٹرڈ کے مرکزی صدر شوکت علی انجم۔مرکزی سرپرست اعلی چوہدری محمد یاسین۔مرکزی چئیرمین چوہدری عبدالرحمن آسی مرکزی جزل سیکرٹری اسد محمود۔ مرکزی فنانس سیکرٹری سید عطاء اللہ شاہ اور صوبائی قائدین حاجی انور کمال خان۔ افتخار احمد۔ محبوب اللہ۔ بشیر باچہ۔بلال خان بلوچ ۔ فضل حکیم۔ محمد فاضل اور دیگر نے ایک بیان میں کیا ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) کی جانب سے پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مزدوروں کے حقوق کا دعویٰ کرنے والی اس تنظیم کی بنیاد ہی جعلی دستاویزات اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی پر رکھی گئی تھی۔ یہ معاملہ محض تکنیکی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا قدم ہے جس نے مزدور تحریک کو فعال طور پر کمزور کیا ہے۔جعلی کاغذات کے ذریعے رجسٹریشن حاصل کرنے کی کوشش کر کے PUWF نے نہ صرف انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 کی خلاف ورزی کی بلکہ اُن حقیقی اور جدوجہد کرنے والی ٹریڈ یونینز کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جو مشکل حالات کے باوجود قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہیں۔

مزدوروں کی اجتماعی طاقت بڑھانے کے بجائے PUWF کے مشتبہ اقدامات نے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی، کارکنوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کی، اور تحریک کے قیمتی وسائل ضائع کیے۔پاکستان کی مزدور تحریک پہلے ہی بے شمار مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں ایک ایسی تنظیم کا سامنے آنا جو نمائندگی کے نام پر بنیادی قانونی شرائط ہی پوری نہ کرے، مزدوروں کے لیے مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ PUWF کے اقدامات نے اس وقت تحریک پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا ہے جب اتحاد اور شفافیت سب سے زیادہ ضروری ہیں۔این آئی آر سی کی جانب سے معاملہ رجسٹرار ٹریڈ یونینز کو بھیج دیا گیا ہے، اور یہ اقدام PUWF کے طرزِعمل کی مکمل جانچ پڑتال کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ مزدور تحریک کو ایسے عناصر کا کھل کر محاسبہ کرنا ہوگا جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اُن ہی کارکنوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچاتے ہیں جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔






