بلدیہ عظمٰی کراچی، ہسپتالوں کی بندر بانٹ، من پسند افراد کے سپرد، ہسپتالوں میں بھی لوٹ مار کا نیا سلسلہ عروج پر ہے

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)بلدیہ عظمٰی کراچی میں کسی قرارداد کے بغیر، آمدنی میں بغیر کسی حصہ اور کسی قسم کے معاہدے کے بغیر سرکاری ہسپتالوں کے بعض شعبہ جات اور اثاثے، بندر بانٹ اور اپنا حصہ انڈر ٹیبل وصول کرنے کیئے من پسند افراد کے سپرد کردیئے گئے ہیں۔ اب ہر طرح کی لوٹ مار کی آزادی ہوگی اور آمدنی بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوگی۔ میئر کراچی نے سرفراز رفیقی شہید ہسپتال کو اپنے رشتہ دار ڈاکٹر سعد صدیقی کے حوالے کردیا ہے، جو نہ بلدیہ عظمی کراچی کے ملازم ہیں نہ ہی ان کا تعلق محکمہ صحت سے ہے۔ اسی طرح باقی 14 ہسپتالوں میں بھی بعض من پسند افراد کو نوازہ جارہا ہے۔ غریب شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے براہ راست بٹور کر اپنی جیبوں میں ڈالا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں بلدیہ عظمی کراچی کے ہسپتالوں کی حالت دن بدن ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ اس بارے میں ڈائریکٹر میڈیکل ہیلتھ ڈاکٹر نادر خان کے ساتھ میڈیکل سپریٹنڈنٹ گذری ڈاکٹر مہوش مٹھانی پیش پیش ہیں۔ مہوش مٹھانی کا ایک سیاسی خاندان سے تعلق ہے جبکہ میئر کراچی مرتضی وہاب کی نگرانی میں بلدیہ کے متعدد ہسپتالوں میں بعض شعبہ جات کی بندر بانٹ میں سرفراز رفیقی شہید ہسپتال کو اپنے رشتہ دار ڈاکٹر سعد صدیقی کے حوالے کردیا گیا

جو نہ بلدیہ عظمی کراچی کے ملازم ہیں نہ ہی ان کا تعلق محکمہ صحت ہے۔ پہلے انہیں آن لائن کے نام پر جگہ دی گئی تھی۔ ڈیجیٹل آن لائن میں ورڈ ایپ نمبر کا ذکر ہے تاہم کسی جگہ نمبر نہیں دیا گیا۔ ہسپتال آنے والے مریضوں سے OPD کے نام پر بھی فیس وصول کی جا رہی ہے۔ ہسپتال کی پہلی منزل آپریشن کے بعد مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے مختص تھا۔آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ جگہ خالی تھی اب ماہر امراض کو تعینات کرکے مریضوں سے ان کے نام پر بھی بھاری فیس وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہسپتال کے دیگر شعبہ جات ڈینٹل، شوگر، ناک کان و گلے(ENT) اور خواتین کے امراض کے نام پر بھی بھاری نذرانہ وصول کیا جائیگا۔ ہسپتال کے لب کو ایک نجی ادارے کراچی لب کے حوالے کردیا گیا یہ سب میئر کراچی مرتضی وہاب کے زبانی احکامات پر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں میڈیکل سروسز حکام نے تصدیق کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے نہ سٹی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی تھی اور نہ کسی سے تحریری معاہدہ ہوا تھا کہ اس کی آمدنی بلدیہ عظمی کراچی کے خزانے میں جمع کی جائے گی۔ لوٹ مار کا یہ نیا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ کراچی میں بلدیہ عظمی کراچی کے دیگر ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں بھی بعض افراد کو نوازہ جارہا ہے۔ گذدر آباد، گذری میٹرنٹی ہوم، اسپنسر آئی ہسپتال لیمارکیٹ میں بعض شعبہ جات کو بڑی خاموشی سے نجی ادارے کے حوالے کیا جارہا ہے۔ کراچی ڈینٹل کالج کے بعض شعبہ جات کو بھی نجی ادارے کے سپرد کردیا گیا ہے جبکہ دل کے ہسپتالوں میں جو انتہائی حساس ہسپتال ہیں ان میں نہ ادویات ہے نہ مطلوبہ سہولیات میسر ہے لیکن میئر کراچی کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مرتضی وہاب تو دل کے ہسپتالوں کو سندھ حکومت کے حوالے کرنے کی کئی بار کوشش کرچکے ہیں جسے کراچی کے عوام نے اپنی متحدہ جدوجہد سے حکومت سندھ اور ان کے سہولت کاروں کی اس غیر قانونی اور متعصب عمل کو ناکام بنا دیا ہے۔ یاد رہے کہ صوبائی حکومت گذشتہ 16سالوں میں بلدیاتی اداروں بشمول بلدیہ عظمی کراچی کی آمدنی دن بدن بڑھانے، وسائل نچلی سطع پر منتقل کرنے کے بجائے صوبائی حکومت ان پر قبضہ کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے بلکہ اس متعصبانہ پالسی پر عملدرآمد جاری ہے جس میں فارم 47 کے ذریعے جیتنے والے مرتضی وہاب سہولت کاری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ کے ایم سی کا ایک ادارہ کراچی انسٹیٹیوٹ اسٹیویٹ ہارڈز ڈیزیز ہسپتال کا کنٹرول محکمہ صحت سندھ کے حوالے اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، سوبھراج ہسپتال، گذدر آباد ہسپتال، گذری ہسپتال کے ساتھ پانچ دیگر زیر تعمیر ہسپتالوں کو بھی محکمہ صحت سندھ کے سپرد کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ کے ایم سی کا سب سے بڑا ہسپتال عباسی شہید ہسپتال بھی حوالے کرنے کی دو رائے موجود ہے ایک حوالے کرنے اور دوسرا خراب صورتحال پر سپرد نہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا نیا کارنامہ خود اپنے میئر اور چیئرمینوں کے اختیارات سلب کر دیئے گئے ہیں،جن میں لازمی سروس کا ادارہ صحت بھی شامل ہے۔تعلیم کے شعبہ جات میئر کراچی کی نگرانی میں نہیں ہو ں گے۔ نئے بلدیاتی ایکٹ 2013ء کی ترامیم جاری کر دی گئی ہے جن میں سندھ حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات ختم کرکے میئر کراچی اور بلدیاتی چیئرمینوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ کے ایم سی سے 14بڑے ہسپتالوں میں سے دل کے تین ہسپتالوں سمیت تمام صحت اور ٹاون میونسپل سے تعلیم اداروں کا شعبہ جات کے اختیارات اور نگرانی ختم کردی گئی ہے۔ سندھ بلدیاتی ایکٹ 2013ء کی ترمیم شدہ لسٹ جاری کردی گئی ہے۔ اب یہ شعبہ جات اور اس کے ملازمین کی خدمات منتقل نہیں کی گئی ہے۔ نئے بلدیاتی قوانین کے تحت کے ایم سی کے 13شعبہ جات میں تعلیم و صحت کے شعبہ جات کو یکسر ختم کردیا گیا،جن میں شیڈول ٹو،سیکشن 72 پارٹ ون لازمی فنکشن میں نمبر ہانچ میں شامل میڈیکل کالجز، ٹیچنگ، اسپیشلائز ہسپتالز بشمول کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، عباسی شہید ہسپتال، سوبھراج میٹنری ہوم و ہسپتال، سرفراز شہیدرفیقی ہسپتال، اسپنسر آئی ہسپتال، لیپری ہسپتال، دیگر تین دل کے ہسپتال شامل ہیں۔ کے ایم سی کے 13 ہسپتالز سمیت دیگر 75 یونٹس، جن میں 89 سندھ حکومت میں ضم ہوئے تھے اور 64 ضلع کونسل کے صحت کے مراکز شامل تھے۔ 61 ڈسپنسری ضلعی بلدیات،جن میں 1516 بیڈ پر مشتمل ہسپتال شامل ہیں جن میں 285 بچوں کے ویکسین سینٹرز بھی شامل تھے،جن میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، کراچی اسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز نمایاں شعبہ بھی شامل ہیں۔ صحت، فائر بریگیڈ،میونسپل سروسز بلدیہ عظمی کراچی کے لازمی سروسز کا ادارہ ہے جس کو کسی حکمنامہ پر اختیارات سلب نہیں کیئے جا سکتے ہیں۔ بلدیہ عظمی کراچی کے 14 ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 3851 ملازمین ہیں جن میں 224 میڈیکل و ہیلتھ،57 ڈائریکٹر میڈیکل سروسز میڈیکل اسٹور،2098 عباسی شہید ہسپتال،249 سرفراز رفیقی شہید ہسپتال، 309 اسپنسر آئی ہسپتال، 192 لپروسی ہسپتال، جذام اسپتال،77 پرائری ہیلتھ کیئر سینٹر لیاری،36 ہومیو پیتھک ہسپتال،321 سوبھراج میٹرنیٹی ہسپتال،217 گذدر آباد جنرل ہسپتال،62 گذری میٹرنیٹی ہوم اور دیگر،لانڈھی میڈیکل کمپلکیس،کراچی انٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز، کارڈیک ایمرجنسی سینٹر شاہ فیصل کارڈیک ایمرجنسی سینٹر لانڈھی اور میونسپل سروسز شامل ہیں۔ اسں سب کو سندھ حکومت کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں شامل کرنے کی ایک عرصے سے سازش کی جارہی ہے تاکہ پھر سندھ سے لوگوں کو لا کر بھرتی کیا جاسکے جس میں فارم 47 والے مرتضی وہاب سہولت کار بنے ہوئے ہیں شاید انہیں صرف اسی مقصد کیلیئے جتایا اور لایا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button