قانونی شکار اور ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ مقامی برادریوں کو دیا جائے گا اور غیر قانونی شکار، خصوصاً اڑیال اور چنکارہ کے بارے میں مستند اطلاع دینے پر 10 ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔پنجاب میں تیتر کے شکار کا سیزن یکم دسمبر سے پندرہ فروری تک جاری رہے گا۔ شکار صرف اتوار کے روز، مخصوص نوٹیفائیڈ جگہوں پر اور لائسنس یا پرمٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔چیف وائلڈ لائف رینجر پنجاب مبین الہٰی کے مطابق اس سال ایک جامع اور نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی، نگرانی اور تحفظ کے عمل کا مرکزی حصہ بنانا ہے۔ان کے مطابق سالٹ رینج میں جنگلی حیات اور فطری ماحول کے امتزاج سے ایک بڑی ایکو ٹورازم کی صلاحیت موجود ہے جسے مربوط انتظام کے ساتھ بین الاقوامی سطح تک لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 80 شکارگاہوں میں محدود تعداد میں شکار پرمٹس نیلام جبکہ کمیونٹیز سے باضابطہ درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات چیف منسٹر کمیونٹی کنزرویشن پروگرام کا حصہ ہیں جس کے تحت افزائش، ری وائلڈنگ اور مقامی منصوبوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔مبین الہٰی نے بتایا کہ اس سال اڑیال کی بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کی 16 ٹرافیاں نیلام ہو چکی ہیں اور غیر ملکی شکاریوں نے سالٹ رینج میں جنگلی سور اور تیتر کے شکار میں خاص دلچسپی ظاہر کی ہے۔ان کے مطابق بہتر افزائش کی صورت میں مستقبل میں پرمٹس کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ حکومت کی جانب سے 15 ایکو لاجز بھی مقامی گروپوں کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ سیاحت، قدرتی راستوں اور ماحولیاتی سرگرمیوں سے سال بھر آمدنی کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔دوسری جانب سالٹ رینج کی مختلف برادریوں نے باہمی مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کسی بھی صورت شکار کی اجازت نہیں دیں گے۔ تحصیل سوہاوہ کی یونین کونسل کوہالی سے آگے کے علاقے، جن میں تپہ پھڈیال، نتھوٹ، دیال، ڈھوک اور ملحقہ دیہات شامل ہیں، کے معتبرین نے فیصلہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں ہر قسم کا شکار مکمل طور پر ممنوع رہے گا۔جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکن اور مشن اوئیرنس فاؤنڈیشن کے سربراہ فہد ملک کا کہنا ہے کہ جب تک قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کے شکار پر پابندی نہیں لگتی، جنگلی حیات کے مکمل تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ان کے مطابق قدیم دور میں شکار صرف ضرورت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب اسے شوق کے طور پر جاری رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اس خیال سے بھی اختلاف کیا کہ قانونی شکار سے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے، اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگلی حیات کی اقسام اور ماحول تقریباً ایک جیسا ہے لیکن بھارت میں شکار پر سخت پابندی نے تحفظ کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔
Read Next
دسمبر 31, 2025
PAMRA Implements Digital, Transparent and Financial Reforms in Punjab’s Agricultural Markets
دسمبر 2, 2025
وائلڈلائف رینجرز پنجاب کے تین افسران کے تبادلے
اکتوبر 9, 2025
محکمہ جنگلات پنجاب، محمد سلیم،کامران کاظمی،ڈاکٹر نسیم اقبال بٹ کے تبادلے کے احکامات جاری
ستمبر 23, 2025
ڈپٹی کمشنر بٹگرام اشتیاق احمد نے ضلع بٹگرام کی حدود میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر دفعہ 144 نافذ کر دی
اگست 20, 2025
محکمہ وائلڈلائف پنجاب میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرروتبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری
Related Articles
رمضان میں لاکھوں ٹن کھجوریں استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ان کی گٹھلیاں جمع کرکے چولستان، تھل، تھر اور دوسرے ریتلے علاقوں میں بکھیر دی جائیں تو قوی امکان ہے کہ بے شمار نخلستان وجود میں آجائیں
مارچ 3, 2025





