وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت

کراچی: صوبائی وزیرِ بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور چیئرمین لوکل کونسلز ایسوسی ایشن پاکستان و چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے سندھ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

اجلاس کی میزبانی بھی سندھ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن نے کی۔اجلاس میں لوکل کونسلز ایسوسی ایشن سندھ کے صوبائی صدر گل محمد جکرانی، ڈپٹی مئیر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور فرحان غنی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں صوبے بھر کے ٹاؤن چیئرمینوں، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور عالمی اداروں کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام کو مکمل طور پر خود مختار اور جدید مالیاتی ماڈل پر منتقل کیے بغیر شہری مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت ٹاؤن کارپوریشنز کو بااختیار بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات اور عالمی اداروں کے تعاون کو نئی سمت دے رہی ہے۔ سندھ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام صوبے بھر کے ٹاؤن چیئرمینوں کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے چیئرمین شریک ہوئے۔ اس اجلاس نے پہلی بار تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہی فورم پر اکٹھا کر کے مشترکہ بلدیاتی پالیسی سازی کے دروازے کھول دیے اجلاس میں ورلڈ بینک اور کلک کے نمائندگان نے شرکت کرتے ہوئے واضح کیا کہ نئے ڈیجیٹل ٹیکسیشن ماڈل کے تحت جن ٹاؤنز کی ریونیو ریکوری بہتر ہوگی انہیں خصوصی انسینٹیو، تکنیکی معاونت، اضافی فنڈنگ اور ترقیاتی گرانٹس فراہم کی جائیں گی ورلڈ بینک حکام نے بتایا کہ سندھ کے شہری ٹاؤنز نے گزشتہ چند برسوں میں توقعات سے زیادہ کارکردگی دکھائی ہے جس کے بعد صوبے کے لیے نیا ریونیو فریم ورک، ڈیجیٹل کلیکشن سسٹم اور مالیاتی نظم و ضبط کے قوانین تیار کیے جا رہے ہیں جنہیں نئی قانون سازی میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کا قیام وقت کی ضرورت تھا اور وہ تمام ٹاؤنز جو ابھی تک اس کا حصہ نہیں بنے انہیں فوری طور پر شامل ہونا چاہیے تاکہ طاقت کا ارتکاز صوبائی سطح سے مقامی سطح تک منتقل ہوسکے انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے پی ایف سی (پروونشل فنانس کمیشن) کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کے لیے سمری ارسال کی جا چکی ہے جب کہ کونسلرز کے وظائف میں اضافے اور ٹاؤنز کی مالی خود مختاری کیلئے جدید ٹیکس ماڈل نافذ کیا جائے گا جس سے گراس روٹ حکمرانی مضبوط ہوگی اور بلدیاتی ادارے بیرونی فنڈز کے بغیر اپنے ترقیاتی منصوبے مکمل کر سکیں گے اجلاس کے دوران ٹاؤن چیئرمینوں نے ٹرانسفر پوسٹنگ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، صفائی، ٹاؤن پلاننگ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی جیسے نکات پر تجاویز پیش کیں ورلڈ بینک نے ان تجاویز کو آئندہ سال کے بلدیاتی ڈویلپمنٹ پیکج میں شامل کرنے پر اتفاق کیا اجلاس سے سید کمیل حیدر شاہ، گل محمد جکھرانی، فرحان غنی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ایسوسی ایشن سندھ میں بلدیاتی نظام کے لیے پالیسی لیڈ فورم کا کردار ادا کرے گی اور مستقبل کی شہری حکمرانی کا نقشہ واضح کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button