وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت نوتشکیل شدہ سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے پہلے باضابطہ اجلاس کے دوران درپیش چیلنجز کے حل اور کمپنیوں کے اثاثے اتھارٹی کو منتقل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین، پنجاب بھر کے ڈویژنل کمشنرز اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی جلد تمام معاملات سنبھال لے گی۔ انتظامی نگرانی ڈویژن سے ضلع سطح پر آنے کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ اتھارٹی کے تحت ہر ضلع میں سُتھرا پنجاب ایجنسی قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سُتھرا پنجاب شکوک و شبہات کے برعکس ایک مضبوط نظام بن چکا ہے۔

وزیراعلٰی مریم نواز کی زیر سرپرستی وسائل کا شفاف استعمال کیا گیا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ دنیا بھر میں سُتھرا پنجاب کو ایک منفرد ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ الحمدللہ ہم سیکھتے سیکھتے اب سکھانے والے بن گئے ہیں۔ فوربز، بلومبرگ کے بعد بی بی سی نے سُتھرا پنجاب کو گیم چینجر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی شہر برمنگھم نے صفائی کا نظام بہتر بنانے کیلئے پنجاب سے رابطہ کیا ہے۔ یہ وزیراعلٰی مریم نواز کے ویژن کی کامیابی کا اعتراف نہیں تو اور کیا ہے؟ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ابھی آئیڈیل منزل کی جانب بہت لمبا سفر باقی ہے۔ ہم کامیابی سے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں سکتے۔ اس نظام سے عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں جن پر پورا اترنا ہوگا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ تمام مہذب معاشروں میں گندگی پھیلانے پر تادیبی کاروائی کی جاتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ 8 بجے صفائی کی جائے اور دکاندار 10 بجے دوبارہ گند پھینک دے۔ انشااللہ پنجاب کے عوام کو اب صفائی کی معیاری سہولت ہمیشہ ملتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سُتھرا پنجاب کو پاؤں پر کھڑا کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
پنجاب حکومت نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے اب شہریوں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اجلاس میں تمام مسیحی ملازمین کو کرسمس پر 20 دسمبر تک تنخواہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کہا کہ سُتھرا پنجاب اتھارٹی کی تشکیل سے مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام کمشنر اپنی نگرانی میں کمپنیوں کے اثاثوں اور فنڈز کا اتھارٹی کو انتقال یقینی بنائیں۔ ڈی جی سُتھرا پنجاب بابر صاحب دین نے کہا کہ ٹیم ورک کا یہی جذبہ برقرار رکھنا ہوگا۔ کمپنی ماڈل سے ایجنسی ماڈل تک منتقلی کا عمل جلد مکمل کر لیں گے۔





