سول سوسائٹی اور ماہرین لوکل گورنمنٹ کا مشاورتی اجلاس،خواتین کی نمائندگی بڑھانے اور بیوروکریٹس کے اختیارات کم کرنے کی تجویز

سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور ویمن ان اسٹرگل فار ایمپاورمنٹ کے باہمی اشتراک سے "شاہ حسین نیٹ ورک” کے پلیٹ فارم سے مجوزہ پنجاب لوکل گورنمنٹ بل پر چیئرمین لوکل گورنمنٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے ساتھ سول سوسائٹی اور ماہرین لوکل گورنمنٹ کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ مشاورتی اجلاس کے آغاز میں لوکل گورنمنٹ ایکسپرٹ زاہد اسلام نے اجلاس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ چیئرپرسن لوکل گورنمنٹ سٹینڈنگ کمیٹی سید پیر ارشد رسول اس اجلاس کے مہمان خصوصی تھے۔ سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندگان، میڈیا پرسنز، سیاسی کارکنوں اور تعلیمی ماہرین نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ زاہد اسلام ایگزیکٹو ڈائریکٹرSDF نے مجوزہ لوکل گورنمنٹ بل2025ء کے لئے متفقہ تجاویز پیش کیں۔ وائز کی بشری خالق نے خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی تجویز دی۔ جماعت اسلامی کے فرید احمد پراچہ نے بیورکریٹس کے اختیارات کو کم کرنے کی تجویز دی۔ اینکر پرسن سلمان عابد نے الیکشن کے طریقہ کار کو بہتر بنانے بارے تفصیلی بات کی۔ سابق ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شہزاد حمید نے لوکل گورنمنٹ منتخب نمائندگان کے بغیر اداروں کو چلانے اور عوامی شمولیت نہ ہونے کے نقصانات بارے اظہار خیال کیا۔ زاہد اسلا م نے بریفنگ میں بتایا کہ لوکل گورنمنٹ بل2025ء میں خواتین کی نمائندگی کم کر دی گئی اس کو بڑھایا جائے۔ کم از کم ہر یونین میں دو خواتین کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ یونین کونسل کی حلقہ بندیوں میں آبادی کے فارمولے کو دوبارہ دیکھا جائے۔الیکشن ایکٹ میں قومی اور صوبائی سطح پر خواتین کے پانچ فیصد کوٹے کی طرح لوکل گورنمنٹ میں بھی پانچ فی صد ٹکٹس خواتین کو لازمی دی جائیں۔ تا کہ خواتین مخصوص سیٹوں کے علاوہ جنرل نشستوں پر بھی الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ سرکاری افسران بیورکریٹس، ڈپٹی کمیشنرز کو ضلعی اتھارٹیوں کا سربراہ بنانا اور مقامی منتخب نمائندگان کو ان کے نیچے رکھنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ منتخب نمائندگان میئرز اور چیئر منیوں کو با اختیار بنایا جائے۔ پبلک سرونٹس اور بیورکریٹس ڈپٹی کمشنرز اور دیگر سرکاری افسران کو مشاورت کے لئے کمیٹیوں میں شامل کیا جائے۔جس طرح ہر پانچ سال بعد قومی اور صوبائی سطح کے انتخابات بلا تعطل ہوتے ہیں اسی طرح ان کے ساتھ ہی لوکل گورنمنٹ کے الیکشن بھی لازمی ہوں۔ اس کے لئے الیکشن ایکٹ میں تبدیلی کر کے تین ووٹ ڈالنا ممکن بنایا جائے۔پاکستان کے باقی تین صوبوں میں لوکل گورنمنٹ الیکشن ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں پچھلے پانچ سال سے چار مختلف قوانین بنائے گئے ہیں لیکن انتخابات کو دس سال گزر گئے۔ الیکشن کروانے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، پنجاب میں جلد از جلد لوکل گورنمنٹ الیکشن کروائے جائیں۔تا کہ آئین پاکستان کا تقاضا پورا ہو اس کے لئے ضروری ہے شو آف ہینڈ سادہ حق رائے دراصل آزادانہ رائے پر پابندی کے مترادف ہے جو تنظیمی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے اس میں کئی سوالات ہیں۔ انتخابات کا طریقہ غیر جمہوری ہے اور روایات کے برعکس ہے۔

ضلعی اتھاٹیوں کی سربراہی منتخب نمائندوں کی بجائے پبلک سرونٹس ڈپٹی کمشنر کو دینا۔ لوکل گورنمنٹ کے بنیادی مفہوم کے خلاف ہے اور ڈپٹی کمشنر جو پہلے ہی مصروف ترین عہدہ ہے، اس پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا زیادتی ہے۔ مقامی حکومتوں کے اختیارات فرائض اور فنکشنز کو کم کر کے صوبائی حکومتی اداروں اور محکموں کو دینا مقامی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس سے متوازی ادارے بننے سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں

جن محکموں کو ضلعی سطح پر منتقل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ عملی طور پر انہیں بھی صوبائی حکومت ہی چلائے گی۔ بل میں ایسا میں ایسا درج ہے۔

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آئین درج بنیادی اصول آرٹیکل 32 اور آرٹیکل 140-A میں درج وضاحت کی روشنی میں لوکل گورنمنٹ قانون کو فی الفور اسمبلی میں پیش کیا جائے اور آرٹیکل 7 کی مطابقت لوکل گورنمنٹ تشکیل دے کر ریاستی ذمہ داری ادا کی جا سکے۔

مشاورتی اجلاس میں سلمان عابد ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئیڈیا، بشری خالق خالق ایگزیکٹو ڈائریکٹر وائز، فرید پراچہ جماعت اسلامی، شہزاد حمید اور نعمان حسین قریشی برابری پارٹی، ڈاکٹر نویدہ اور شازیہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، شہزاد حمید ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ، رانا ندیم اقبال چیف ایگزیکٹو آفیسر سدھار، تنویر ضیا بٹ سابقہ صوبائی الیکشن کمشنز، بسمہ اللہ ارم سابقہ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل خانیوال، گل مہر ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ، کنول مظفر سیمرغ، فاخرہ عالیہ جماعت اسلامی، نرمین وائز، سمیرا عابد پاکستان تحریک انصاف، ساجد علی ریجنل منیجر شاہ حسین نیٹ ورک، شہزاد حیدر خان، افشاں نازلی سنگت ڈویلپمنٹ فائنڈیشن نے شرکت کی۔

اجلاس میں طے پایا کہ یہ گروپ مجوزہ بل کی شق وائز میں اپنی شفارشات مرتب کرے گا اور اسٹینڈنگ کمیٹی کو پیش کرے گا۔نیز چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی نے بتایا کہ وہ سول سوسائٹی کے دو نمائندوں سے پوری کمیٹی کی ملاقات کروائیں گے اور چیئرمین تقائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ نے تجویز کیا کہ اس طرح مزید مشاورتی اجلاس منعقد کئے جائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button