اسلام آباد میں پانی کے مسائل کے حل اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے متعلق مختلف اقدامات اور منصوبہ کی پیشرفت پر سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس

چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کے مسائل کے حل اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے متعلق مختلف اقدامات اور منصوبہ کی پیشرفت پر سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ سمیت اسلام آباد واٹر کے ڈی جی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی سے متعلق منصوبوں اور اقدامات پر پیشرفت اور انکی بروقت تکمیل کیلئے جائزہ اور ضروری ہدایات دی گئیں۔اجلاس میں پانی کے بنیادی انفراسٹرکچر کی اپگریڈیشن اور بحالی کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں واٹر ورکس، کنڈکشن پائپ لائنز، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور واٹر پمپس کی بحالی اور اپگریڈیشن کے مختلف سکیمز پر کام جاری ہے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کے نظام کی جدید بنیادوں پر مانیٹرنگ کیلئے سکاڈا (Scada) سسٹم اور فلو میٹرز کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے۔اجلاس میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیر زمین پانی کو ریچارج کرنے کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیر زمین پانی کی سطح کو بلند کرنے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے تقریباً 100 مقامات پر بارش کے پانی کے ریچارج ویلز بنائے جائینگے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے تقریباً 20 مقامات پر واٹر اسٹوریج ٹینکس تعمیر کئے جائینگے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سی ڈی اے کے بلڈنگ بائی لاز کے تحت چھتوں سے بارش کا پانی ذخیرہ Rooftop Rain Water Harvesting کرنے کے نظام کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ چھتوں سے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے نظام پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واٹر ٹینکر سروس کی بہتری، پانی سے متعلق شکایات کیلئے ڈیش بورڈ کے ذریعے مؤثر طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈیم منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہدرہ ڈیم منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کا عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ اس ڈیم منصوبے کا ڈیزائن تکمیلی مراحل میں ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ دوتارہ ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی پر کام جاری ہے جو مئی 2026ء تک مکمل کر لیا جائیگا۔اجلاس میں کورنگ نالے پر 3 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کے قیام کے حوالے سے بھی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ ای پی سی (EPC ) طرز پر تعمیر کیا جائیگا۔ جس کیلئے ڈیزائن اور کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 11 ویٹ لینڈز کے پی سی-ون کی منظوری دے دی گئی ہے اور مختلف ویٹ لینڈز کی جگہ کی سلیکشن کا عمل جاری ہے جبکہ ایف ڈی او (FDO) کے تعاون سے 2 ویٹ لینڈز پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں اور اقدامات کی تکمیل کیلئے واضح ٹائم لائنز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کے بلوں کی بروقت فراہمی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پانی کے بل ماہانہ بنیادوں پر فوری طور پر صارفین تک پہنچانے کا میکنزم بنایا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کے مسائل کے مستقل حل اور فراہمی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اسلام واٹر ایجنسی جیسے خود مختار ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button