وزیراعلیٰ سندھ اور کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی قیادت میں وفد کے درمیان اجلاس میں عالمی بینک کی معاونت سے چلنے والے تین ارب چالیس کروڑ کے منصوبوں کا جائزہ

کراچی(7 اگست) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان اجلاس میں عالمی بینک کی معاونت سے چلنے والے تین ارب چالیس کروڑ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ تمام رکاوٹوں کو دور کرکے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائےگا۔

جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ناصرحسین شاہ، سعید غنی، سردار شاہ، جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، صوبائی سیکریٹریوں، عالمی بنک کی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی جبکہ عالمی بینک کا وفد کامران اکبر، مرتضیٰ نورانی، عمر ریاض، ولید انور ، عظمیٰ صدف اور دیگر پر مشتمل تھا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کا مقصد مختلف کوریڈورز کے ذریعے شہریوں کو محفوظ سفر کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ منصوبے میں ییلو لائن بی آر ٹی کوریڈور کےلیے دو پلوں کی تعمیر ، ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تکیمل ، منصوبے کےلیے تکنیکی سہولیات اور استعدادکار بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جام صادق پل چھ اگست کو مکمل کرلیا گیا تھا۔ اس پل کی آزمائش سات جولائی کو کرلی گئی تھی جبکہ وزن گذارنے کی آزامائش بارہ اگست کو ہونی ہے۔

ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تکمیل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی بولیاں اپریل دو ہزار چوبیس میں موصول ہوگئی تھیں۔ عالمی بینک نے اس کی منظوری دے دی ہے اور اگلے ہفتے پپرکو معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی میں رہائشی سہولیات کوبہتر بنانے کے پروگرام کلک کا مقصد شہری معاملات کا بہتر انتظام، خدمات کی فراہمی ، کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور کسی بھی بحران میں بروقت امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پراپرٹی ٹیکس سروے کےلیے گرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تکنیکی تفصیلات عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہیں، تیس اگست دو ہزار چوبیس تک کمپنی کو بھی شامل کرلیا جائےگا۔

کراچی واٹر اینڈ سیویریج پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کا مقصد شہر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا، واٹر بورڈ کی مالی اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانا ہے۔

عالمی بنک کی ٹیم کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تمام بڑی خریداریوں کے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ ،منصوبے کو مکمل کرنےکےلیے تمام کوششیں جاری ہیں۔ تمام بولیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، کامیاب بولیوں کی صورت میں ستمبر میں معاہدوں پر دستخط ہو جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ عالمی بینک نے کے فور کےلیے تیئیس کروڑ اسی لاکھ روپے جاری کردیے ہیں، صوبائی حکومت اپنا حصہ جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے پر کام کا آغاز جلد کردیا جائےگا۔

سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کا مقصد صوبے میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار اور عوام کو منتقلی ہے۔ منصوبے کے تحت سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن اور ہوم سولر سسٹم کی تقسیم کے علاوہ سولر پارکس بھی قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سولر پارک کے قیام کےلیے ٹھیکے دے دیے گئے ہیں لیکن این ٹی ڈی سی کی جانب سے اس کو گرڈ کے ساتھ ملانے کےلیے نیپرا جائزہ رپورٹ کی منظوری کا انتظار ہے۔ سولر پارک کےلیے ضلع جامشور کے علاقے مانجھند میں زمین کی نشاندہی پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریوینیو کو کام جلد مکمل کرکے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک چونتیس سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کی ٹیم نے دو لاکھ خاندانوں میں ہوم سولر سسٹم کی تقسیم کےلیے حکومت سندھ کو گرین سگنل دے دیا۔

سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بہتری کے پروگرام سلیکٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ پروگرام کا مقصد پرائمری کی ابتدائی کلاسوں میں تعلیمی مہارت کو بہتر بنانا اور مخصوص اضلاع میں پرائمری کلاسوں میں بچوں کے داخلے کو بڑھانا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی کلاسوں کے بچوں کو سکھانے کی ضروریات پورا کرنے کےلیے مقامی طور پر کچھ اشیا تیار کی گئی ہیں۔ پہلی اور دوسری جماعت کےلیے تیار کردہ یہ سامان ستمبر دو ہزار چوبیس تک دستیاب ہوگا۔

سندھ پانی و زعی بہتری کے پروگرام (سوات) کے بارے میں بتایا گیا کہ پروگرام کا مقصد آبی زرائع کے انتظام،، پانی کی فراہمی میں بہتری، مخصوص زرعی مراعات اور سیلاب کی صورت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں قانونی مشاورت کرلی گئی ہے۔ واٹر پالیسی پر عملدرآمد کےلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جا کا پہلا اجلاس ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہوگا۔ کمیٹی کا مقصد نئے آبی قوانین کی تشکیل ہوگی۔

اجلاس میں اکرم واہ کی بحالی پر غور کیا گیا اور اس پر اتفاق کیا گیا کہ اکرم واہ کو آرڈی 193-0 سے جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔ پروجیکٹ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے اکرم واہ کینال کی لائننگ کے پروپوزل کی متفقہ منظوری دے دی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ منصوبے کے مشیر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے جغرافیائی سروے کریں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 1246 میں سے ستانوے فیصد یعنی 1210 سیلاب متاثرین کو ادائیگی کردی گئی ہیں، باقی کو کاغذات کی تصدیق کے بعد ادائیگی کردی جائے گی۔ اس سلسلے میں میڈیا پر مہم چلائی گئی تھی جو اگست 2024 تک مکمل ہو جائے گی۔ عالمی بنک کی ٹیم کو بتایا گیا کہ پندرہ جولائی تک پچیس ایکڑ والے دو لاکھ چھیانوے ہزار چار سو ستر کاشت کاروں میں سے بہتر فیصد کو ادارئیگیاں کردی گئی تھیں جبکہ ساڑھے بارہ ایکڑ والے دو لاکھ پینتیس ہزار چار سو ستر کاشت کاروں میں سے اڑسٹھ فیصد کو ادائیگی کردی گئی تھیں۔

صحت پروگرام ( ایس آئی ایچ پی پی) کا مقصد صوبے میں زچہ بچہ کی سلامتی، نومولودوں کی صحت اور خواتین اور بچوں کی غذائی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کےلیے ساٹھ ایمبولینسز، تیس موبائل میڈیکل وینز اور پانچ موبائل لیباریٹریز آ چکی ہیں۔ ٹیم کی تقرری کے بعد مزید ایمبولینسز کی خریداری عمل میں لائی جائے گی۔

سندھ سالڈ ویسٹ ایمرجنسی پروگرام کے تحت جام چاکر میں کچرہ ٹھکانے لگانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سروے کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لینے کےلیے ایک ماہ بعد دوبارہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔

جواب دیں

Back to top button