_سر الیگزنڈر فلیمنگ

”میں نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ لکھا کہ "پینسلین میری دریافت، میری ذاتی ملکیت نہیں ہے. یہ ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت کے طور پر ملا ہے.اس دریافت کا عطا کندہ "خدا” ہے. اور اِس کی ملکیت پوری خدائی ہے. میں پینسلین دُنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور تھا۔ لیکن میں اس کا موجد نہیں ہوں. صرف اِس کا انکشاف کرنے والا ہوں۔ اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا۔ بلکہ خداوند کا کرم، اور اُس کی عنایت تھی. اصل میں جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں۔ وہ خدا کے حکم اور فضل سے ہوتے ہیں.میں الیگزینڈر فلیمنگ، پینسلین کی دریافت اور اِس انکشاف کے فارمولے کو عام کرتا ہوں. اور اس بات کی قانونی، شخصی، جذباتی اور ملکیتی اجازت دیتا ہوں۔ کہ دُنیا کا کوئی ملک، شہر، انسان، معاشرہ جہاں بھی اِسے بنائے، وہ اُس کا انسانی اور قانونی حق ہوگا۔ اور میرا اٗس پر کوئی اجارہ نہ ہوگا.“ 🤍

_سر الیگزنڈر فلیمنگ

جواب دیں

Back to top button